نظر انداز کرنا

میرے اندر پیدائشی طور پر یہ بات ہے کہ میں ہر ایک کی بات کو غور سے سنتا ہوں اور اس سے سبق لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کا یہ فائدہ مجھے ملتا ہے کہ میں ہر ایک سے کچھ نہ کچھ کام کی بات سیکھ لیتا ہوں۔ ہر ایک سے مجھے کوئی ایسی تجربہ کی بات مل جاتی ہے جس میں سب کے لیے فائدہ ہو۔

ایک بار میں ایک گاؤں میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ گاؤں کے دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو دوسرے سے کسی معاملے میں شکایت ہو گئی۔ جس آدمی کو شکایت تھی وہ بار بار اپنی شکایت بیان کرتا تھا۔ دوسرے آدمی نے کافی کوشش کی کہ اس کی شکایت ختم ہو جائے مگر جب اس نے دیکھا کہ شکایت ختم نہیں ہو رہی ہے تو اس نے کہا کہ— شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دو اور پھر ہم دونوں پہلے کی طرح رہنے لگیں گے۔

یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے مگر وہ زندگی کا ایک بہت بڑا راز ہے۔ کوئی بھی دو آدمی ایک ڈھنگ کے نہیں ہوتے ۔ جس طرح ایک آدمی کے انگوٹھے کا نشان دوسرے آدمیوں کے انگوٹھے کے نشان سے الگ ہوتا ہے اسی طرح ہر آدمی اپنی سوچ، اپنے جذبات اور اپنی پسند اور نا پسند کے لحاظ سے دوسرے تمام لوگوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اب اس فرق و اختلاف کے ساتھ سماج میں خوشگوار زندگی کیسے گزار ی جائے۔

اس کا آسان فارمولہ یہ ہے کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور اگر سمجھانے کے بعد بھی اختلاف اور شکایت دور نہ ہو تو دونوں اس بات پر راضی ہو جائیں کہ دونوں شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دیں گے ، وہ ایک دوسرے سے اس پر بحث نہیں کریں گے۔

یہ فارمولہ ہر جگہ کے لیے ہے۔ فیملی کے اندر بھی اور فیملی کے باہر بھی ، اپنے لوگوں میں بھی اور اجنبی لوگوں میں بھی۔ اس دنیا میں سکھ کی زندگی بتانے کا اس سے زیادہ آسان فارمولہ اور کوئی نہیں۔

چوں کہ ہر آدمی کی سوچ الگ الگ ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ دوسروں کو بالکل اپنے خیال کے مطابق بنا سکیں ۔ اختلاف ایک فطری حقیقت ہے ۔ وہ کسی حال میں ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ اختلاف کو مٹانا چاہیں تو اختلاف کبھی مٹنے والا نہیں۔ ایسی کوشش صرف آپ کو مزید پریشانی میں مبتلا کرے گی ، وہ کبھی آپ کو سکھ اور چین دینے والی نہیں۔

ایسی حالت میں قابل عمل فارمولہ یہی ہے کہ شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دیا جائے۔ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی کوشش کی جائے۔

 ہر آدمی سے آپ کو کوئی شکایت ہوتی ہے اس کے ساتھ ہر آدمی میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کے لیے قابل شکایت نہ ہوں۔ اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ شکایت والی بات کو بے شکایت والی بات سے الگ کر دیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہی آپ محسوس کریں گے کہ دوسرا آدمی اسی طرح آپ کے لیے نارمل آدمی ہے جس طرح بہت سے دوسرے آدمی۔

موجودہ دنیا میں ہر آدمی مل جل کر رہنے پر مجبور ہے۔ تنہائی کی زندگی یہاں قابل عمل نہیں۔ آپ جب بھی دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہیں گے یا مل کر کام کریں گے تو لازمی طور پر کوئی نہ کوئی شکایت یا اختلاف سامنے آئے گا۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ شکایت والی بات کو بھلا دیا جائے اور بے شکایت والی باتوں کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔

نظر انداز کرنا کوئی کمزوری کی بات نہیں۔ یہ زندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے۔ یہ ہر اس انسان کا طریقہ ہے جو اپنے سامنے کوئی بڑا مقصد رکھتا ہو۔ اس دنیا میں ناخوشگوار یوں کو نظرانداز کرنے والے لوگ ہی آگے بڑھتے ہیں۔ جو لوگ نظر انداز نہ کر سکیں وہ درمیان میں الجھ کر رہ جائیں گے، وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچیں گے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion