دین داری یہ ہے کہ دین
پوری زندگی پر چھا جائے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں شریعت کا بہت اہتمام کرتا ہے ۔ مگر بڑے بڑے امور میں اس کو خدا کی شریعت کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔ وہ ایسے معاملات میں    ’’بال کی کھال نکالنے کی حد تک مذہبی بنتا ہے جن میں اس کے ذاتی مفادات مجروح نہیں ہوتے۔ جو اس کے دنیوی عزائم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے، جن میں اسے یہ قیمت نہیں دینی پڑتی کہ دین کی خاطر اپنے ایک مبغوض شخص سے محبت کرے اور اپنے ایک محبوب شخص سے محبت کرے اور اپنے ایک محبوب شخص سے قلبی تعلق ختم کردے۔ خلاصہ یہ کہ جو دین اس کی اپنی زندگی میں خلل نہ ڈالے ، وہ اس کی پیروی میں بہت آگے ہوتا ہے۔ مگر وہ دین جو اس کی اپنی زندگی سے ٹکرائے، جو اس سے ’’ یہ کرو اور وہ نہ کرو‘‘ کا مطالبہ کرے، اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

تغلق خاندان کے آخر زمانہ میں جب ان کی سلطنت کا زوال شروع ہوا تو فیروز تغلق کے جاگیر دار دلاور خاں نے مالوہ میں 1401ء میں خود مختار سلطنت قائم کرلی۔ اس کا دار السلطنت ابتداء ً دھار اور اس کے بعد مانڈو تھا۔ دلاور کے بعد ہوشنگ اور اس کے بعد اس کا لڑکا غزنی خاں تخت پر بیٹھا۔ اس زمانہ میں محمود خلجی اس کا وزیر تھا۔ وزیر نے موقع پاکر غزنی خاں کو مروا ڈالا اور خود تخت پر بیٹھ گیا۔

سلطان محمود خلجی ایک بہادر سپاہی تھا اور ذاتی زندگی میں نہایت شریف مزاج تھا۔ اس نے ساری عمر کیمپ میں گزاری۔ محمود نے 1469 میں وفات پائی۔ سلطان محمد تغلق کے عبد 1347 ء دکن میں بغاوت ہوئی اور حسن گنگو نے ایک خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایران کے قدیم بادشاہ بہن کی اولاد ہے۔ اس نے گلبرگہ کو اپنا دار السلطنت قرار دیا۔ اس خاندان کے احمد بہمنی نے شہر بیدر بسایا جو گلبرگہ کے بجائے بہمنی سلطنت کا پایہ تخت ہو گیا۔ اسی خاندان کا ایک حکمراں نظام شاہ بہمنی تھا۔ وہ 1462ء میں تخت پر بیٹھا۔ مگر تخت نشینی کے دو سال بعد نظام شاہ کا اچانک انتقال ہو گیا۔

مالوہ کا حاکم محمود خلجی حلال غذا کا بہت زیادہ اہتمام کرتا تھا۔ 1461 میں اس نے بیدر پر حملہ کیا جو نظام شاہ بہمنی کا دار السلطنت تھا۔ دوران محاصرہ اس کے سامنے ایک مسئلہ یہ آیا کہ اپنے لیے حلال غذا کہاں سے حاصل کرے حلال سبزیوں کا ذخیرہ جو اس کے پاس تھا وہ محاصرہ کے طول پکڑ جانے کی وجہ سے ختم ہو گیا۔

اس مسئلہ کا اسے پہلے سے اندازہ تھا۔ چنانچہ اپنے معمول کے مطابق وہ اپنے ملک سے مٹی اور تختے لے کر گیا تھا اس نے لکڑی کے تختوں پر مٹی ڈال کر سبزی اگائی۔ مگر وہ اس کی ضرورتوں کیلیے ناکافی ثابت ہوئی۔ بالآخر اس نے اس علاقہ کے ایک بزرگ مولانا شمس الدین کرمانی کو بلایا اور ان سے کہا کہ مجھے کسی ایسے شخص کا پتہ بتائیے جس کے پاس حلال روپے سے خریدی ہوئی زمین ہو اور وہ میرے ہاتھ اس کو فروخت کر دے۔ میں اس کو لے کر اس میں اپنے لیے سبزیاں اگاؤں گا۔ مولانا شمس الدین کرمانی نے جواب دیا: ’’ تم نے ایک مسلمان ملک پر حملہ کیا ہے۔ یہاں آکر تم لوگوں کا خون بہار ہے ہو اور آباد گھروں کو اجاڑ رہے ہو۔ حرام سالن سے بچنے کی تمھیں اتنی فکر ہے اور مسلمانوں کی خوں ریزی سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ‘‘  یہ سن کر سلطان رو پڑا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion