ذہین لوگوں کا قبرستان
تاریخ ذہین لوگوں کا قبرستان ہے۔یہ بات اتنی زیادہ عام ہےکہ مشکل ہی سے اس میں کسی کا استثنا (exception)معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ایک عرب شیخ نے کہا تھا: السُّعُودِيَّةُ مَقْبَرَةٌ لِعُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ (سعودی عرب مسلم علما کا مقبرہ ہے)۔ یہی بات عمومی طورپر اس طرح کہی جاسکتی ہے:التَّارِيخُ مَقْبَرَةٌ لِلْأَذْكِيَاءِ (تاریخ، ذہین لوگوں کا قبرستان ہے)۔
یہ معاملہ ان لوگوں کا ہے، جن کو خالق نے ذہین (brilliant)انسان کی حیثیت سے پیدا کیا، یعنی اعلیٰ ذہن والا انسان۔ یہ لوگ گویا کہ خالق کی امید (hope)تھے۔ اپنی اعلیٰ صلاحیت کی وجہ سے وہ بڑے بڑے کام کرسکتے تھے۔ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ پوری تاریخ کوایک نیا رخ دے سکیں۔ وہ ایک نئی برترتہذیب پیدا کر سکیں۔ لیکن اِن اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں میں سے تقریباً ہر ایک کا حال یہ ہوا کہ وہ اپنے فطری امکانات (potential) کو واقعہ (actual)نہ بنا سکا۔ ایک محدود مدت کے بعد وہ مرکراِس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کے غیر معمولی افراد کی مثالیں ماضی میں بھی تھیں اور آج بھی موجود ہیں۔
غیر معمولی ذہانت رکھنے والوں کی اس ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ جو آدمی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوا، اس نے فوراً ہی تواضع (modesty) کھودی۔ وہ ایک مغرور(arrogant)انسان بن گیا۔ اس تاریخی المیہ کا واحد سبب یہی ہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی مثبت صفت تواضع ہے، اور سب سے بڑی منفی صفت غرور (arrogance)۔ یہی واحد سبب ہے، جس کی بناپر اعلیٰ صلاحیت کے لوگ صرف ناکامی کی تاریخ بنا سکے، کامیابی کی تاریخ بنانا، ان سے ممکن نہ ہوسکا۔ فطرت کے قانون کے مطابق ، اس دنیا میں تواضع کامیابی کی ضامن ہےاور غرور کسی آدمی کو ناکامی کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتا۔
