ناکامی کا اعتراف
امریکا کی ایک ایکٹرس جین سیبرگ (Jean Seberg)نے اپنی پرکشش شخصیت کی وجہ سے غیر معمولی شہرت اورمقبولیت حاصل کی۔ امریکا کے علاوہ یورپ میں بھی وہ ایک عرصہ تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس نے قدیم انداز میں ایک ’’گھر ‘‘ بسانے کے بجائے لاکھوں گھروں کے لیے سامان تفریح بننے کو ترجیح دیا۔ مگر اس کی موت کے بعد جب اس کی ڈائری پڑھی گئی تو اپنی ڈائری کی آخری سطروں میں اس نے لکھا تھا:
‘‘I wish I had stayed home.’’
کاش میں اپنے گھرمیں رہی ہوتی (ٹائمس آف انڈیا 8 نومبر 1981ء)
کیسا عجیب تھایہ کامیاب سفرجو بالآخر صرف ناکامی پر ختم ہوا۔
خدا نے جس طرح اس دنیا کی مادی چیزوں کو خاص فطرت پر پیداکیاہے اور اسی فطرت پر قائم رہ کر کوئی چیز اپنا صحیح وظیفہ انجام دے پاتی ہے۔یہی حال انسان کا بھی ہے۔ خدا نے مردکو خاص فطرت پر پیداکیا ہے اور اسی طرح عورت کو بھی خاص فطرت پر پیدا کیا ہے۔ دونوں اسی وقت اپنی زندگی صحیح طور پر گزار سکتے ہیں جب کہ وہ خدا کی فطرت پر قائم رہیں۔ فطرت سے ہٹتے ہی زندگی کے نقشہ میں اپنا مقام کھودیں گے۔
عورت کی صلاحیتیں واضح طور پر مرد سے مختلف ہیں۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کا دائرہ کار اور مرد کا دائرہ کار عمومی اعتبار سے یکسا ں نہیں۔ مرد کا دائرہ کار اگر باہر ہے تو عورت کا دائرہ کار ’’اندر‘‘ مرد اپنے دائرہ کار میں زیادہ مفید بن سکتا ہے اور عورت اپنے دائرہ کار میں ۔ اگر دونوں اپنے دائرہ کار کو بد لیں تو دونوں اپنی معنویت کو کھودیں گے۔ دونوںاپنے کو بے جگہ بنالیں گے۔
