نزاع نہیں
قرآن کی سورۃ نمبر22میں خدانےارشادفرمایاہے۔ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ (22:67)۔ یعنی، وہ تم سےامرمیں ہرگزنزاع نہ کریں اورلوگوں کوتم اپنےرب کی طرف بلاؤ۔
اس آیت میں نزاع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم انہیں نزاع کا موقع نہ دو۔ یعنی جب بھی تمہارے اور فریق ثانی کے درمیان کوئی اختلافی بات پیش آئے تو اس کو پُرامن بات چیت کے دائرہ میں محدود رکھو۔ ایسا ہرگزنہ ہونے دو کہ اختلاف اپنی ابتدائی حد سے گذر کر عملی نزاع بن جائے۔ اور متشدّدانہ مقابلہ آرائی کی نوبت آجائے۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بات پر دوفریقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تناؤ بذات خود ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر مقام پر پیدا ہوگا۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اس تناؤ یا اس اختلاف کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اختلاف کا امن کے دائرہ میں رہنا اس کا حد کے اندر رہنا ہے۔ اختلاف کا عملی ٹکراؤ یا تشدّد کے دائرہ میں پہنچ جانا اس کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد کے اندر کوئی بھی اختلاف برا نہیں، مگر حد کے باہر چلے جانے کے بعد ہر اختلاف بُرا بن جاتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں بامقصدانسان کاطریق عمل بتایاگیاہے۔ایک انسان جو ایک سنجیدہ مقصدکےلیے اٹھا ہو،اس کی کامیابی کےلیے ضروری ہےکہ اس کے اور دوسروں کے درمیان صرف وہی چیز زیر بحث آئےجوکہ اس کا اصل مقصد ہے۔ دونوں کے درمیان کسی اور چیز کا زیر بحث آنا بامقصد انسان کے لیے زہرکی حیثیت رکھتا ہے۔
اب سوال یہ ہےکہ دونوں کےدرمیان عدم نزاع کی یہ فضاکیسےقائم ہو۔جواب یہ ہے کہ یہ فضا صرف اس انسان کےیک طرفہ صبرکےذریعہ قائم ہوسکتی ہےجوایک مثبت مقصد اپنے ساتھ لےکراٹھتاہے۔عملی اعتبارسےاس کےسواکوئی اور صورت ممکن نہیں۔ با مقصد انسان کویہ کرناپڑتاہےکہ وہ یک طرفہ اعراض کےذریعہ اپنےاورفریق ثانی کےدرمیان معتدل ماحول قائم رکھے۔ تاکہ اس کاسفرکسی توقف کےبغیرمسلسل جاری رہے۔
