ہارکوماننا
اپنی ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ آدمی پھر سے محنت کر کے اپنی کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنا چاہتا ہے — ہارنے کے بعد ہار کو مان لینا دوبارہ جیت کی طرف سفر کرنے کا پہلاقدم ہے۔
اگر آپ ہارنے کے بعد اپنی ہار کو نہ مانیں تو آپ ہار کے بعد جہاں کھڑے ہوئے تھے، آپ بدستور وہیں کھڑے رہیں گئے ۔ آپ نئے سفر کا آغاز کرنے کے قابل نہیں بنیں گے۔ مگر جب آپ ہارنے کے بعد اپنی ہار مان لیں تو آپ کا سفر فوراً دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
ہار کو مان لینا اس بات کا اعتراف ہے کہ میں مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ اس کے بر عکس، ہار کونہ ماننا گویا یہ کہنا ہے کہ میں مقابلے کی دوڑ میں آگے ہوں۔ اب جو شخص واقعے کے اعتبار سے پیچھے ہو وہ فرضی طور پر اپنے آپ کو آگے سمجھے تو وہ جھوٹے بھرم میں مبتلا رہے گا۔ اور جو لوگ جھوٹے بھرم میں مبتلا ہوں وہ اسباب کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
ہارنے کے بعد ہار کو مان لینا بہادری ہے ۔ اور ہارنے کے بعد ہار کو نہ ماننا بز دلی ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرے ۔ وہ اپنے آپ کو بزدلی کی سطح پر جانے نہ دے۔
اس دنیا میں کبھی ہار ہوتی ہے اور کبھی جیت ۔ بلند انسان وہ ہے جو ہار جیت سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو ہار جیت سے اثر لیے بغیر اپنی رائے قائم کرے ۔ جولوگ اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں، و ہی اس دنیا میں اپنے مقصد تک پہنچتے ہیں۔ جو لوگ اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ زندگی کے طوفان میں گھر کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتے ۔
جو شخص ہا ر کو مان لے اس نے گویا ہار میں بھی جیت کا راز دریافت کر لیا۔ کیوں کہ وہ باہر کی دنیا میں وقتی طور پر ہارامگر وہ اپنے اندر کی ابدی دنیا میں بدستور فاتح رہا۔ اس نے اپنی عملی شکست کو اپنے ذہن کی شکست بننے نہیں دیا۔ جو آدمی ہار کو نہ مانے اس نے گویا اس معاملے کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لیا۔ اور جو آدمی اس طرح کسی معاملے کو وقار کا مسئلہ بنالے وہ غلطی پر غلطی کرتا چلا جائے گا۔ وہ مسلسل ہارتا ہی چلا جائے گا ، اس کے لیے دوبارہ جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔
