مہاجرین کے دستے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے کے بعد جو کام کیے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے چھوٹے چھوٹے دستے مکہ کے راستوں کی طرف بھیجنے شروع کیے۔ ان دستوں میں صرف مہاجر مسلمان ہوا کرتے تھے۔ ان دستوں کا ایک مقصد یہ تھاکہ مکہ کے لوگوں کے بارے میں خبریں معلوم کریں۔ کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ ہجرت کے بعد وہ مدینہ پر چڑھائی کر سکتے ہیں۔

 دوسرا مقصد قریش کے قافلوں کو روکنا تھا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔قَالَ الْوَاقِدِيُّ:وَكَانَ مَقْصِدُهُ أَنْ يَعْتَرِضَ لِعِيرِ قُرَيْشٍ( سیرۃ ابن کثیر، جلد2، صفحہ361)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس کا مقصد قریش پر رعب ڈالنا اور اسلامی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا تاکہ وہ مدینہ کے خلاف جنگی اقدام سے باز رہیں۔

ہجرت کے تقریباً سات مہینہ بعد آپ نے ایک دستہ روانہ کیا۔ اس کے سردار حضرت حمزہ تھے۔ اس لیے اس کو سریہ حمزہ کہا جاتا ہے۔ اس میں 30 مہاجرین شامل تھے۔ یہ لوگ سیف البحر کی طرف بھیجے گئے تاکہ قریش کے ان 300 سواروں کا پیچھا کریں جو ابوجہل کی سرکردگی میں شامل سے مکہ واپس ہو رہا تھا۔ سیف البحر(ساحل بحر) پر دونوں کا سامنا ہوا۔ تاہم کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ حضرت حمزہ لڑے بغیر مدینہ واپس آگئے۔

اس کے بعد شوال اھ میں60 مہاجر مسلمانوں کا ایک دستہ رابغ کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس کے امیرعبدہ بن الحارث تھے۔ رابغ کے مقام پر قریش کے 200 سواروں کی جمعیت سے مڈبھیڑ ہوئی۔ تاہم لڑائی کی نوبت نہیں آئی، مسلمان اپنی موجودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد مدینہ واپس آگئے۔

ذوالقعدہ اھ میں20 مہاجرین کی ایک جماعت خرّار کی طرف بھیجی گئی۔ اس کے امیر حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ یہ لوگ رات کو چلتے اور دن کو چھپ جاتے۔ اس طرح چلتے ہوئے جب وہ خرّار کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے جا چکا ہے۔ خترار سے وہ مدینہ واپس آگئے۔

 صفر2 میں60 مہاجرین کا ایک دستہ روانہ ہوگا۔ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک تھے۔ آپ نے سعد بن عبادہ انصاری کو مدینہ میں اپنی جگہ مقرر کیا۔ اور چلتے ہوئے ابواء کے مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ یہاں سے گزر چکا ہے۔ آپ نے وہاں کے قبیلہ بنو ضمرہ کے سردار مخشی بن عمرو سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ لوگ نہ مسلمانوں سے جنگ کریں گے اور نہ مسلمانوں کے کسی دشمن کی مدد کریں گے۔15 دن بعد آپ کسی لڑائی کے بغیر مدینہ واپس آگئے۔

 ربیع الثانی2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ مکہ جا رہا ہے۔ آپ نے سائب بن عثمان بن مظون کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر کیا اور خود200 مسلمانوں کو لے کر قریش کے قافلہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش کے اس قافلہ میں تقریباً ڈھائی ہزار اونٹ تھے اور قریش کے ایک سو آدمی اس کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنا سردار امیہ بن خلف کو بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے بواط کے مقام پر پہنچے۔ وہاں معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے چلا گیا ہے۔ چنانچہ کوئی مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔ آپ امن و حفاظت کے ساتھ مدینہ واپس ہوگئے۔

جمادی الاولی2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 200 مہاجرین کی ایک جماعت بنائی۔ اور ان کو لے کر عشیرہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرنے والا تھا۔ آپ نے ابو سلمہ بن عبدالاسد کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا۔

اس سفر میں سواری کے لیے صرف تیس اونٹ تھے اور مسلمان باری باری ان پر سوار ہوتے تھے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے جا چکا ہے۔ یہاں آپ نے  قبیلہ بنو مدلج سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کا خلاصہ یہ تھا کہ حملہ کے وقت مسلمان بنو مدلج کی مدد کریں گے اور بنو مدلج مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ اس کے بعد آپ مدینہ واپس آگئے۔

 اس سفر کے دس دن بعد یہ واقعہ ہوا کہ زبن جابر فہری نے مدینہ کی چراگاہ پر رات کے وقت چھاپا مارا، اور بہت سی بکریاں اور اونٹ لے کر بھاگ گیا۔ اس خبر کو سن کر آپ نے فوراً اس کا پیچھا کیا اور اپنے آدمیوں کے ساتھ سفوان تک گئے۔ مگر کرز بن جابر وہاں سے نکل چکا تھا۔ چنانچہ آپ سفوان سے مدینہ واپس آگئے۔ اطلاع نہ ہونے کے باعث کرز کے کے خلاف کوئی پیشگی دستہ نہ بھیجا جا سکا۔

 رجب 2ھ میں آپ نے مہاجرین کا ایک دستہ نخلہ کی طرف روانہ کیا۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجنے کا ارادہ کیا اور فرمایا کہ تمہارے اوپر میں ایک ایسے شخص کو امیر بناؤں گا جو تم میں سب سے زیادہ بھوک اور پیاس پر صبر کرنے والا ہوگا۔ اگلے دن آپ نے عبداللہ بن جحش کو اس دستہ کا امیر بنایا۔ اس دستہ میں کل نو آدمی تھے۔

 آپ نے عبداللہ بن حجش کو ایک بند تحریر دی اور کہاکہ تم لوگ نخلہ کی طرف دو دن تک چلتے رہو۔ جب دو دن گزر جائیں تو تحریر کوکھول کر دیکھنا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ دو دن کے بعد جب عبداللہ بن حجش نے تحریر کھولی تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ جب تم میری اس تحریر کو دیکھو تو تم چلتے رہو، یہاں تک کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر پہنچ کر ٹھہر جاؤ۔ اور قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھو اور ہمیں ان کی خبروں سے مطلع کرو(اذا نظرت فی کتابی ہذا فامض حتی تنزل نخلۃ بین مکۃ و الطانف فتر صد بھاقریشا و تعلم لنامن اخبار ھم)۔السرایا والبعوث للنبویۃ، جلد1، صفحہ 97

عبداللہ بن حجش نے اس تحریر کو پڑھ کر کہا:سمعاوطاعۃ (میں نے سنا اور میں نے اطاعت کی) اگرچہ آگے جانا خطرناک تھا، کیوں کہ وہ قریش کا علاقہ تھا اور ان سے مڈبھیڑ کا اندیشہ تھا۔ تاہم تحریر کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر آگے کے لیے روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ نخلہ میں پہنچ کر وہاں قیام کیا۔

 اس وقت قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے واپس ہو کر مکہ جا رہا تھا۔ مسلم جماعت کے ایک شخص واقد بن عبداللہ نے قریش کے قافلہ کے سردار عمرو بن الحضرمی کو تیر مارا۔ وہ مر گیا۔ اس کے بعد وہ لوگ گھبرا کر بھاگ گئے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا دستہ مدینہ پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا قصہ بتایا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تم کو اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم حرام مہینہ میں قتال کرو:مَا أَمَرْتُكُمْ بِقِتَالٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ (سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 603)۔ یعنی، تم کو قریش کے علاقہ کی طرف بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ تم قریش کی نقل و حرکت کی خبریں معلوم کرو، نہ یہ کہ تم قریش سے لڑائی چھیڑ دو۔

اس کے علاوہ سریہ کا ایک مقصد دعوت بھی تھا۔ بعد کو آپ نے بہت سے دستے خالص دعوت و تبلیغ کے مقصد کے تحت مختلف قبائل کی طرف روانہ فرمائے۔

 عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عوف کو بلایا اور کہا کہ سفرکی تیاری کرو۔ کیوں کہ تم کو میں ایک سریہ میں بھیجنے والا ہوں۔ اس کے مطابق عبداللہ بن عوف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ وہ شام اور مدینہ کے درمیان دومۃ الجندل پہنچے۔ ان لوگوں کو تین دن تک اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے دن الاصبغ بن عمرو الکلبی نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ نصرانی تھے اور اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔

 البراء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو اہل یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں اسلام کی طرف بلائیں۔ وہ لوگ چھ مہینہ تک ان کے درمیان رہے۔ مگر ان میں سے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے نام ایک مکتوب روانہ فرمایا۔ جب ان کو آپ کا مکتوب پڑھ کر سنایا گیا تو قبیلہ ہمدان کے تمام افراد اسلام میں داخل ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر بھیجی گئی۔ آپ کو جب معلوم ہوا تو آپ سجدہ میں گر پڑے اور فرمایا:

السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ السَّلَامَ عَلَى هَمْدَانَ(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد4، صفحہ 203)۔یعنی، ہمدان پر سلامتی ہو، ہمدان پر سلامتی ہو۔

 ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو نجران کی طرف بھیجا۔ خالد بن الولید اور ان کے ساتھی اونٹوں پر سوار ہوکر ان کی بستیوں میں پھرتے تھے اور کہتے تھے:أَيُّهَا النَّاسُ، أَسْلِمُوا تُسْلَمُوا (سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ592)۔یعنی،اے لوگو، اسلام قبول کرو، تم سلامت رہو گے۔اس دعوتی گشت کے بعد ان میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion