فقہ کی تدوین دور اقتدار میں
اس حادثے کی جڑ یہ ہے کہ ہماری موجودہ فقہ خلافت عباسیہ کے زمانے میں مدوّن ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ اہل اسلام کو عالمی دبدبہ حاصل تھا ان کو دنیا میں سب سے بڑی سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے اپنے ان الفاظ میں نظم کیا ہے:
ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں
نہ تھاپلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے
موجودہ فقہ اسی حاکمانہ دور میں مدوّن ہوئی، اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے دور کا مزاج ان کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ مدوّن فقہ ایک قسم کی حاکمانہ فقہ بن گئی۔
