معاشرہ کی تعمیر میں عورت کی اہمیت
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ:فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ:مَا صَنَعْتَ شَيْئًا. قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ:مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ. قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ:نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ:أُرَاهُ قَالَ:فَيَلْتَزِمُهُ (صحيح مسلم، حديث نمبر2813)۔ يعني حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ ابلیس کا تخت سمندر کے اوپر ہے۔ وہ اپنے دستے بھیجتا ہے تو وہ انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ابلیس کے نزدیک وہ شیطان سب سے بڑا قرار پاتا ہے۔ جس نے سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا شیطانوں میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایسا اور ایسا کیا۔ شیطانوں کا سردار ابلیس اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں کا ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک مرد اور ایک عورت کے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ میں نے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی۔ ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو لپٹا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تم نے کیا۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسانی معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے۔ وہ ہتھیار یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے درمیان جھگڑے کھڑے کرے اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردے۔
قد یم زمانہ میں یہ فتنہ بہت محدود پیمانہ پر پیدا ہوتا تھا۔ یعنی ایک میاں بیوی یا ایک گھر اس فتنہ کا شکار ہوتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں نئے نئے نظر یات نے پوری نسل اورپوری انسانیت کو اس فتنہ کا شکار بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں عورتوں کی مصنوعی آزادی اور غیر فطری مساوات کا ذہن اتنے بڑے پیمانہ پر بنا یا گیا ہے کہ قومیں کی قومیں اس سے متاثر ہوکر رہ گئی ہیں۔
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں شادی شدہ زندگی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ جدید تر قی یافتہ سماج میں مردوں اور عورتوں کا یہ حال ہے کہ وہ معمولی معمولی بات پر طلاق لے لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گھر اجڑتے ہیں۔ بچے اپنے ماں با پ سے چھوٹ کر مجرمین کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ جنسی بے قیدی کی بنا پر طرح طرح کی مہلک بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ خاندانی بندھن کا پا بند نہ ہونے کا مزاج موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوا ہے اور وہ بلاشبہ موجود ہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
گھر بگڑنے سے پورا معاشر ہ بگڑتا ہے اور معاشرہ بگڑنے سے پوری قوم بگڑجاتی ہے۔ یہ موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے۔ اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ازدواجی زندگی کا احترام ختم ہوگیا۔ خاندانی بندھن کے ساتھ زندگی گزار نے کو کمتر درجہ کی چیز سمجھاجانے لگا۔
