مستقبل بینی

مئی 1992 میں ایک صاحب آندھرا پر دیش سے دہلی آئے ۔ وہ بطور تحفہ ہمارے لیے آم بھی لائے تھے ۔ آم کی ٹوکری پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ آم جب میں نے اپنے یہاں کے بازار سے لیے تو وہ بالکل اچھے تھے۔ مگر راستہ میں شدید گرمی پڑی جس کی وجہ سے اکثر آم خراب ہو گئے ۔

میں خاموش رہا۔ اس وقت مجلس میں ایک ’’باغبان‘‘ بھی موجود تھے ۔ انھوں نے آم کو دیکھتے ہوئے کہا کہ بھائی صاحب ، یہ آم گرمی کی وجہ سے خراب نہیں ہوئے ہیں بلکہ آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں۔

پھر باغبان نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے یہاں کی مارکٹ سے جب آم لیے توکیا وہ پکے ہوئے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ باغباں نے کہا کہ خراب ہونے کی وجہ یہی ہے ۔ اصل یہ ہے کہ پکے ہوئے آم مقامی استعمال کے لیے ہوتے ہیں۔ جب آم کو دور لے جانا ہو تو اس وقت کچے آم خرید ے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کچے آم لیے ہوتے تو ایک آم بھی خراب نہ ہوتا۔ سب کے سب اچھی حالت میں یہاں تک پہنچ جاتے ۔

 اس واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں مستقبل بینی کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ جب بھی آپ ایک ایسا منصوبہ بنائیں جس کی تکمیل آئندہ ہونے والی ہو تو ایسی صورت میں صرف حال کا علم کافی نہیں۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ آپ مستقبل کو جانیں، آج کے دائرے سے اوپر اٹھ کر کل پیش آنے والے واقعات سے واقفیت حاصل کریں۔

منصوبہ حال میں بنایا جاتا ہے مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں نکلتا ہے۔ منصوبہ بندی حقیقتاً نام ہی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ہے۔ اس قسم کا کامیاب منصوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وقتی جوش کے بجائے سوچ سے کام لیا جائے، جذباتیت کے بجائےحقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ حال کے مسائل کو اہمیت دینے سے زیادہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا لحاظ کیا جائے ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion