تعمیر قوم کی ضرورت
30 جنوری1948 کو مہاتما گاندھی کا قتل ہوا تو اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ اگلے دن شہریوں کی طرف سے ایک جلسہ ہوا جس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں ۔ مقامی ایس کے پی کالج کے ہندو پرنسپل نے اس موقع پر جو تقریر کی تھی وہ اب تک مجھے یاد ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے واقعہ پر مختلف اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں سرخی لگائی ہے ۔ مگر مجھے امرت بازار پتریکا کی سرخی سب سے زیادہ پسند آئی جو اس طرح تھی :
Gandhi sacrificed by fanaticism
(گاندھی جنونیوں کے ہاتھ ھلاک ) اس میں شک نہیں کہ مہاتما گاندھی کے حادثہ کے بارے میں یہ صحیح ترین سرخی تھی۔ آزادی کے بعد ہندستان میں دو رجحانات کا مقابلہ تھا — گاندھی ازم اور فنیٹسزم۔ اس مقابلہ میں فنیٹسزم کو کامیابی ہوئی ، گاندھی ازم ناکام ہو کر رہ گیا۔
ملک کی تقسیم بلا شبہ غلط تھی ۔ مگر اس سے بھی زیادہ غلط بات یہ تھی کہ تقسیم کے بعد لوگ اس کے رد عمل سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے ۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد ہندؤوں کی ایک جماعت مہاتما گاندھی کی سخت مخالف ہو گئی۔ اس نے مہاتما گاندھی کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اولاً مدن لال نے مہاتما گاندھی پردستی بم پھینکا مگر وہ نشانہ پر نہیں پہنچ سکا۔ اس کے بعد اس کے ساتھی ناتھورام گوڈسے نے پستول کی گولی سے مہاتما گاندھی کا خاتمہ کر دیا۔
اس کے بعد 9آدمیوں پر مقدمہ چلا یا گیا جو 6ماہ سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ اس موقع پر بیان دیتے ہوئے مدن لال نے جو کچھ کہا تھا ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کو اس بات کا غصہ تھا کہ مہاتما گاندھی کے اصرارپر ہندستانی حکومت نے پاکستان کو اس کے حصہ کا 55 کروڑ روپیہ دے دیا۔ اس واقعہ نے گوڈسے کو مشتعل کر دیا:
Madan Lal said he was angered by the Indian Union's payment of 550,000,000 rupees to Pakistan. This exasperated Godse.
Louis Fischer, The Life of Mahatma Gandi
Harper & Row Publishers, 1983, New York, p.504
آزادی کے بعد صرف ساڑھے چار مہینہ کے اندر پیش ہونے والا یہ واقعہ ملک کے لیے ایک چیلنج تھا— وہ مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے اصول پر چلے یا قوم پرست جنونیوں کے آگے جھک جائے ۔ ملک کی قیادت نے ابتداء ً یہ فیصلہ کیا کہ اس کو مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے اصولی راستہ پر چلنا ہے ۔ چنانچہ اس کے مطابق ملک کا دستور بنایا گیا ۔ اور 26جنوری 1956 کو اس کے باقاعدہ نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔
اب بظاہر ملک کے مستقبل کی تعمیر دستور ہند کی رہنمائی میں ہونی چاہیے تھی ۔ مگر یہاں ایک رکاوٹ پیش آگئی۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاوس کی چھت کے نیچے بیٹھ کر جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر نہ لکھا جا سکا۔ کاغذی دفعات کے مطابق ملک کا مذہب سیکولرزم تھا، مگر عوامی رجحان کے مطابق ملک کا مذہب بدستور فنیٹسزم (مجنونانہ قوم پرستی ) بنا رہا۔ اس تضاد کا اظہار پچھلی تقریباً نصف صدی کے دوران مختلف صورتوں میں ہوتار ہا ہے۔
یہ صورت حال ملک کے لیڈروں کے لیے سخت آزمائش تھی۔ کاغذ کے اوپر خوبصورت دفعات لکھنے کے لیے بازار کی سیاہی کافی ہے۔ مگر زندگی میں ان دفعات کے عملی نفاذ کے لیے اس قربانی کی ضرورت تھی جس کو ڈیگال کے نام پر گال ازم کہاجاتا ہے۔ ہمارے لیڈروں نے پہلا کام تو کیا، مگر وہ دوسرا کام نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ دستور ہند کے الفاظ ملک کی حقیقی زندگی میں واقعہ نہ بن سکے۔
ملک میں جو دستور بنایا گیا تھا وہ حقیقتاً ارکان اسمبلی کی سطح پر بنایا گیا تھا وہ وسیع تر سطح پر عوامی رجحانات کا نمائندہ نہ تھا۔ اس لیے بہت جلد دونوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آگیا۔ دستور کے الفاظ شہریوں کے درمیان مساوات کا اعلان کر رہے تھے۔ مگر ملکی عوام تعصب اور امتیاز کے راستہ پر چلتے رہے ۔ دستور کے الفاظ ہر ایک کے لیے یکساں انصاف کی ضمانت دے رہے تھے مگر عوامی رجحان کا تقاضا تھا کہ اپنوں کے ساتھ ایک سلوک کیا جائے اور غیروں کے ساتھ دوسرا سلوک۔
یہاں ملکی حکمرانوں کو دستور کا ساتھ دینا تھا نہ کہ عوامی خواہشات کا۔ مگر انھوں نے دیکھا کہ اگر وہ دستور ہند کے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں تو وہ اپنے حق میں عوام کی سیاسی حمایت کھو دیں گے، اگلے الکشن کے موقع پر انھیں عوام کا ووٹ حاصل نہ ہو سکےگا۔ وہ عوامی خواہشات کے آگے جھک گئے اور دستور کو پس پشت ڈال دیا۔ اگرچہ یہ دستور وہی تھا جس کے ساتھ وفاداری کا حلف لے کر وہ حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے تھے۔
