عورت کی گواہی
اسلام کے قانون شہادت میں دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر مانی گئی ہے۔ قرآن میں قرض کے معاملہ کا قاعدہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ— اپنے مردوں میں سے دو مرد کو گواہ بنا لو۔ اور اگر دو مرد گواہ نہ ملیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنا ئی جائیں ، ایسے گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے (2:282)۔
حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہےکہ قرآن کا یہ قانون بالکل فطری ہے۔ کیونکہ وہ حیاتیاتی حقیقت کے عین مطابق ہے۔
ٹائمس آف انڈیا( 18 جنوری 1985) میں یوپی آئی کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع ہو تی ہے۔ یہ رپورٹ اخبار کے صفحہ 9 پر ہے اور اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
MEMORISING ABILITY:”Men have a greater ability to memorize and process mathematical information than women, but females are better with words, a Soviet scientist says, reports UPI. ”Men dominate in mathematical subjects due to the peculiarities of their memory. “ Dr Vladimir Konovalov told the Tass news agency. ”The stronger sex shows greater difficulties in processing and adapting language material.’’
عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے اندر اس بات کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ریاضیا تی معلومات کو یادرکھیں اوراس کو ترکیب دے سکیں۔ مگرعورتیں الفاظ میں زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔ یہ بات ایک روسی سائنس داں نے کہی۔ڈاکٹر ولا دیمیر کو نوولوف نے تاس نیوزایجنسی کو بتایاکہ مرد ریاضیاتی موضوعات پرچھائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے اندر حافظہ کی خصوصی صلاحیت ہے۔صنف قوی لسانی مو اد کو ترکیب دینے اور استعمال کرنے میں زیادہ مشکل محسوس کرتا ہے۔
مذکورہ آیت کا تعلق قرض سے ہے۔ یعنی وہ صورت جب کہ آج معاملہ کیا جائے اور آئندہ اس کی ادائیگی ہو۔ ایسے معاملہ میں حکم دیا گیا کہ اس کے اوپر دو مرد گواہ ہوں۔ یا ایک مرد اور دوعورتیں گواہ مقرر کی جائیں۔یہ بالکل واضح ہے کہ اس طرح کے معاملہ میں انصاف پسند ی کے بعد دوسری چیزجودیکھنے کی ہے وہ یادداشت ہے۔ اور جب حیاتیاتی طور پر عورت کی یادداشت مرد سے کم ہوتو یہ عین مطابق حقیقت ہے کہ ایک مرد کی جگہ دوعورتیں گواہ بنائی جائیں۔ گویا عورت اور مرد میں گواہی کافرق بر بنائے ضرورت ہے ، نہ کہ بربنائے فضیلت۔
