موجودہ زمانے کا تجربہ
موجودہ زمانے میں، نتائج کے اعتبار سے، دوبارہ وہی دو مختلف مثالیں قائم ہوئی ہیں جن کے نمونے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حسنین کے ذریعے سامنے آئے تھے۔
جن مسلم رہنماؤ ں نے حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کو نشانہ بنا کر کام کیا ، وہ امت کی تاریخ میں بربادی اور محرومی کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہ کر سکے۔ اس کی واضح مثالیں مصر اور پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مصر میں الاخوان المسلمون کے لوگ اس بات کے چیمپین بنے تھے کہ حکومت پر قبضہ کر کے ملک کے اندر اسلامی سماج کی تشکیل کریں۔ مگر تقریباً نصف صدی کی ہنگامہ خیز کوشش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ طریقِ کار گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ وہ سراسر ناکام رہا۔
امریکہ سے مسلمانوں کا ایک انگریزی جرنل نکلتا ہے جس کا نام اسلامک سوشل سائنسز ہے۔ اس کے شمارہ ستمبر 1987ء میں سوڈان کے اخوانی لیڈر ڈاکٹر حسن ترابی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ریاست ، اسلام کا صرف ایک سیاسی اظہار ہے۔ آپ ایک اسلامی ریاست نہیں بنا سکتے جب تک آپ نے ایک اسلامی معاشرہ نہ بنایا ہو:
‘‘The state is only the political expression of an Islamic society. You cannot have an Islamic state insofar as you have an Islamic society .’’ (p. 1)
اس کے برعکس، مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے سیاست سے الگ رہ کر دوسرے اصلاحی میدانوں میں اپنی کوششیں صرف کیں۔ ان سے امت کو واضح قسم کے مثبت فائدے حاصل ہوئے۔ اس کی ایک مثال تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت سے امت کو مسلّمہ طور پر دینی فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ بلاشبہ یہی ہے کہ اس جماعت نے حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کو اپنا نشانہ نہیں بنایا، بلکہ اپنی تمام سرگرمیاں یکسوئی کے ساتھ غیر سیاسی دائرے میں مُرتکز کر دیں۔
