جماعت ِصحابہ
صحیح مسلم (کتاب الجہاد و السیر) میں یہ روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بیان کیاکہ جب بدر کا دن تھا اور دونوں گروہ ایک میدان میں آمنے سامنے جمع تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار مسلح افراد تھے اور دوسری طرف آپ کے اصحاب صرف 313 تھے اور ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کو پکارنا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے اللہ، تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما— اے اللہ، اگر تو اہل ا سلام کی اس جماعت کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی::
اللَّهُمَّ إِنْ تَُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَُ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ(بَعْدَهَا) فِي الْأَرْضِ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1763؛ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ267)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بلامبالغہ درست تھے۔ آپ کے یہ اصحاب جن کو حالات نے میدان بدر میں اکٹھا کیا تھا، وہ خیار انسانیت تھے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3374)۔ یعنی، تمہارے جو افراد جاہلیت میں بہتر تھے وہی اسلام میں بھی بہتر ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرب میں جو لوگ اکٹھا ہوئے تھے، وہ پوری بشری تاریخ کے بہترین لوگ تھے، وہ لمبے تاریخی عمل کے دوران بن کر تیار ہوئے اور پھر انہیں یہ موقع ملا کہ وہ خاتم الرسل کا ساتھ دے کر وہ انقلاب برپا کریں جو ہزاروں سال سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا۔ مگر اب تک وہ وقوع میں نہیں آیا تھا۔ یہ وہ قیمتی گروہ تھا جو تمام اعلیٰ انسانی اوصاف کا کامل نمونہ تھا۔ وہ ایک طرف خیار انسانیت تھا اور دوسری طرف خیار اسلام ۔
