تاریخ کا فتنہ
سَأَلَ أَبُو زُرْعَةَ شَيْخَهُ الْبَلْقِينِيَّ قَائِلاً: مَا تَقْصِيرُ الشَّيْخِ تَفِي الدِّينِ السُّبْكِيِّ عَنْ الْإِجْتِهَادِ وَقَدِ اسْتَكْمَلَ آلَتَهُ؟ فَسَكَتَ الْبَلْقِينِيُّ، فَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: فَمَا عِندِي أَنْ الْمُنْتِعَ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا لِلْوَظَائِفِ الَّتِي قُدِّرَتْ لِلْفُقَهَاءِ عَلَى الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ وَأَنَّ مَنْ خَرَجَ عَنْ ذَٰلِكَ لَمْ يَنْلْهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، وَحَرُمَ وِلَايَةَ الْقَضَاءِ، وَامْتَنَعَ النَّاسُ عَنْ إِفْتَائِهِ، وَنُسِبَتْ إِلَيْهِ الْبِدْعَةُ فَابْتَسَمَ الْبَلْقِينِيُّ وَوَافَقَهُ عَلَى ذَٰلِكَ (فقه السنة سيد سابق ، جلد1، صفحہ 13-14)۔ یعنی، ابو زرعہ نے اپنے استاد بلقینی سے پوچھا کہ شیخ تقی الدین سبکی اجتہاد کیوں نہیں کرتے جب کہ ان کے اندر اس کی شرائط موجود ہیں۔ بلقینی چپ رہے۔ ابو زرعہ نے کہا کہ ان کے اجتہاد سے رکنے کی وجہ میرے نزدیک تو صرف وہ وظائف ہیں جو مذاہب اربعہ کے فقہا کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ جو ان مذاہب سے نکلے گا وہ ان وظائفمیں سے کچھ نہیں پا سکتا، وہ قاضی کے عہدہ پرباقی نہ رہے گا، لوگ اس کے فتوے کو قبول نہیں کریں گے۔ اور اس کو بدعتی کہنے لگیں گے۔ یہ سن کر بلقینی ہنسےاور ان کی رائے سے اتفاق کیا۔
دین کے نام پر جو چیز شروع کی جائے، اگر وہ ایک مدت تک باقی رہے تو بالآخر وہ مقدس سمجھی جانے لگتی ہے، یہاں تک کہ وہ نوبت آتی ہے کہ اس کے ساتھ دنیوی قدر پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے منسوب ہو کر آدمی کو ماحول میں عزت ملتی ہے، اس سے وابستگی سے آدمی کے لیے عہدوں اور مفادات کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس کے نام پر ’’آج‘‘ کے ایک آدمی کو وہ حیثیت حاصل ہو جاتی ہے جو ’’کل‘‘ کے ایک آدمی کو تاریخی روایات کے نتیجہ میں حاصل ہو چکی ہے۔
ایسے ماحول میں لوگ اس حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جس کے ساتھ تاریخی شخصیت کا نام شامل نہ ہو۔ وہ ’’تاریخ‘‘ کے پر ستار بن کر رہ جاتے ہیں، حق کے پرستار کی حیثیت سے ان کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔
لوگ ہمیشہ زندہ شخصیت کو نظرانداز کرتے ہیں اور تاریخی طور پر مسلّمہ شخصیت کے ساتھ خوب تعلق ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ مسلّمہ شخصیتوں کے ساتھ مادی مفادات وابستہ ہو جاتے ہیں، جب کہ زندہ شخصیت کے ساتھ اس قسم کا کوئی پہلو وابستہ نہیں ہوتا۔
