اسلامی حوصلہ
خنساء (وفات 24ھ) اسلامی دور کی شاعرہ ہے۔ اس خاتون کا اصل نام تُما ضِر بنت عمروبن الثر ید سُلَمِیّہ ہے۔ خنسا ء اس کا لقب تھا۔ بعد کو وہ اسی سے مشہور ہوگئی۔
وہ ایک بڑے خاندان میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ مضر کے قبیلہ بنو سلیم کا سردار تھا۔ اس کے دو بھائی جاہلی جنگ میں مارے گئے۔ اس کا اسے بہت صدمہ ہوا۔ اپنے بھائیوں کے قتل سے پہلے وہ دو یا تین اشعار سے زیادہ نہ کہتی تھی۔ مگر جب وہ مارے گئے تو اس کی آنکھوں سے آنسو اور دل سے اشعار امنڈ نے لگے۔ اس نے دونوں بھائیوں خصوصاً صخر کے لیے انتہائی درد ناک مرثیے لکھے۔ وہ برابر مرثیہ کہتی رہی اور روتی رہی یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔
فتح مکہ کے بعد اپنے قبیلہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اسلام قبول کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو اس نے اپنے کچھ اشعار سنائے تو آپ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا": اور سناؤ خُناس(هِيهِياخُنَاس)"۔ چنانچہ اس نے مزید اشعار آپ کو سنائے۔
مگر جوانی کی عمر میں جو عورت اپنے بھائی کی موت کو برداشت نہ کرسکی تھی ، اسلام نے اس کے اندر وہ طاقت پیدا کی کہ بڑھاپے کی عمر میں اس نے خود اپنے لڑکوں کو خدا کی راہ میں نثار کردیا۔ اس کے چار جوان بیٹے تھے۔ چاروں کو اس نے جنگ قادسیہ میں جانے کے لیے آمادہ کیا۔ چنانچہ چاروں گئے اور چاروںلڑکر شہید ہوگئے۔ جب اس کو خبر ملی کہ اس کے چاروں بیٹے ختم ہوگئے تو اس نے رونے یا مرثیہ کہنے کے بجائے نہایت صبرو سکون کے ساتھ اس خبر کو سنا اور پھر بولی’’:خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ان کی شہادت سے عزت بخشی، میں امید کرتی ہوں کہ وہ مجھے ان سے ملا دے گا۔‘‘ (الاستيعاب في معرفة الاصحاب، جلد 4، صفحه 1829)
