زندہ رہنمائی
اسلام انسان کے لیے خدا کی ابدی رہنمائی ہے۔ اسلام کی صورت میں خدا نے وہ تمام بنیادی اصول بتادئے ہیں جو انسان کو موجودہ دنیا کی زندگی میں سچائی اور انصاف پر قائم رکھنے والے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ مزید انتظام کیا گیا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں کے ذریعہ ان اصولوں کا مکمل عملی نمونہ بھی ایک شان دار تا ریخ کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے ۔ اسلام کی یہ تاریخ ہر موڑ پر ایک زندہ رہنما کی طرح کھڑی ہوئی ہر آدمی کو بتا رہی ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔
ایک غریب مسلمان دن بھر کی محنت کے بعد شام کو اپنے گھر واپس آیا۔ اس کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس کی بیوی کھانا لائی تو وہ صرف ارہر کی دال اور جو کی روٹی تھی مسلمان اس کو دیکھ کر جھنجلا اٹھا کہ دن بھر کی محنت کے بعد ہم کو یہی کھانا ملا ہے اور کتنے لوگ بغیر محنت کے عمدہ عمدہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ مگر معاً بعد اس کو خیال آیا کہ خدا کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا تو اس سے بھی زیادہ معمولی ہوتا تھا ۔ یہ خیال آتے ہی اس کے جذبات ٹھنڈے پڑگئے۔ انسانوں کے درمیان معاشی اونچ نیچ اس کو اصل مسئلہ کی نسبت سے غیر اہم نظر آنے لگی ۔ اس نے خدا کا شکرادا کرتے ہوئے اپنا کھانا کھالیا اور رات کی نماز پڑھ کر سو گیا۔
دنیا کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چلتے چلتے سیدھے راستہ کے ادھر اُدھر بھٹک جاتا ہے۔ وہ اہم اور غیر اہم کے فرق کو بھول جاتا ہے ۔ اس کی نظر اصل نشانہ سے ہٹ کر وقتی چیزوں میں الجھ جاتی ہے ۔ ایسے مواقع پر اسلام کی تاریخ آدمی کے لیے ایک معیار کا کام دیتی ہے۔ وہ زندہ نمونوں کے ذریعہ آدمی کی تصحیح کرتی رہتی ہے۔ ایک عام آدمی بھی اس میں اپنا سبق پاسکتا ہے اور ایک خاص آدمی بھی ۔
3مئی1969کو سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کی اچانک وفات ہوئی تو مسٹر وی دی گری نائب صدر تھے۔ اس کے بعد دستور ہند کے مطابق وہ قائم مقام صدر ہو گئے۔ تاہم جلد ہی انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفا دے دیں اور صدارتی الکشن کا مقابلہ کریں۔ ان کے استعفا کے بعد جو قانونی صورت پیدا ہوئی اس کے مطابق جناب محمد ہدایت اللہ ( پیدائش (1905) ہندستان کے ایکٹنگ صدر مقرر ہوئے جو اس وقت ہندستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ ان کی صدارت 35 دن (20 جولائی تا 4 اگست 1969) جاری رہی ۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے صدر کی حیثیت سے جناب محمد ہدایت صاحب کو جو تجربات ہوئے ان کو انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری (My Own Boswell) میں درج کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بڑا سبق آموز ہے۔
15 اگست 1969 کو راشٹرپتی بھون کے مغل گارڈن میں یوم آزادی کی تقریب تھی۔ محمد ہدایت اللہ صاحب بحیثیت صدر روایتی جلوس کے ساتھ راشٹرپتی بھون سے نکلے ۔ اعلیٰ فوجی افسران، اے ڈی سی کا عملہ صدارتی باڈی گارڈ سب جلو میں چل رہے تھے۔ ان کا پر شوکت یونیفارم اور منظم انداز میں حرکت کرنا راشٹرپتی بھون کے شاہانہ ماحول میں عجیب شان دار منظر پیش کر رہا تھا۔ محمد ہدایت اللہ صاحب کہتے ہیں کہ اپنے گرد یہ شان و شوکت دیکھ کر مجھے کسی قدر فخر کا احساس ہونے لگا :
I felt a little pride (P.245)
مگر اگلے ہی لمحہ ان کو فاروق اعظم ؓ کا وہ واقعہ یاد آگیا جو معمولی فرق کے ساتھ تاریخ کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ شام و فلسطین کی جنگ کے آخری مرحلہ میں عیسائیوں نے پیش کش کی کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں بشر طیکہ خلیفہ اسلام خود سفر کر کے یہاں آئیں ۔ خلیفہ دوم ایک اونٹ اور ایک غلام کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے ۔ دمشق کے قریب جابیہ کے مقام پر پہنچے تو ابوعبیدہ بن الجراح اور خالد بن ولید اور اسلامی فوج کے دوسرے سرداروں نے آپ کا استقبال کیا۔ جا بیہ میں کئی دن تک قیام رہا اور عیسائیوں سے گفتگو کے بعد یہیں معاہدہ لکھا گیا ۔
معاہدہ کی تکمیل کے بعد عمر فاروق ؓ بیت المقدس کے لیے روانہ ہوئے ۔ آپ کے جسم پر پر انے نہایت معمولی کپڑے تھے ۔ آپ کی سواری ایک د بلی او نٹنی تھی۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کی خدمت میں نیا کپڑا اور ترکی نسل کا عمدہ گھوڑا پیش کیا اور اصرار کیا کہ آپ اونٹنی کو چھوڑ دیں اور اسی گھوڑے پر سفر کر کے جائیں ۔ آپ گھوڑے پر سوار ہوئے تو وہ عجیب شان کے ساتھ چلنے لگا۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد عمر فاروق ؓ گھوڑے سے اتر گئے اور کہا کہ میری اونٹنی لاؤ، میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا:میرے دل میں بڑائی کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی بڑائی کا جذبہ ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
محمد ہدایت اللہ صاحب کو جب یہ واقعہ یاد آیا تو ان کے دل کی کیفیت بدل گئی ۔ اس وقت ان کا جو حال ہوا اس کو وہ ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں مجھے اپنے اوپر شرم آنے لگی۔ میں نے اسی وقت اس احساس کو اپنے اندر سے نکال دیا اور دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے لگا:
I felt ashamed of myself and put aside the feeling at once and began thinking of other things. (246)
اسلامی تاریخ ہر آدمی کے لیے ایک زندہ نمونہ ہے ۔ وہ ہر موقع پر آدمی کو متوازن بناتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے اندر کسی بادشاہ کے لیے بھی اتنی ہی رہنمائی ہے جتنی ایک معمولی انسان کے لیے ۔
