جنّت کے لیے صبر
عماّر ، یا سِر اور سمیــــــّہ کے لڑکے تھے جن کو مکہ میں اسلام دشمنوں نے سخت ترین تکلیفیں پہنچائیںیہاں تک کہ دونوں شہید ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم آلِ یا سر کی طرف سے ایسے وقت میں گزرے جب کہ ان پر تشدد کیا جارہا تھا۔ یا سر کے منہ سے صرف اتنا نکلا:
یا رَسُولَ ﷲ، الْدَّ ھْرُ ھٰکَذَا(مسند احمد، حديث نمبر 439)۔يعني، اے خدا کے رسول ، زمانہ یہی ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’:آلِ یا سِر صبر کرو، تم سے جنت کا وعدہ ہو چکا ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبراني، حديث نمبر 1508)۔یا سراور ان کی بیوی سمیــــــّہ اسلام میں سب سے پہلے مرتبہ شہادت پر فائزہوئے(الاستيعاب في معرفة الاصحاب، جلد 4، صفحه 1864)۔ ماں باپ کا روح فرسا انجام دیکھنے کے باوجود عمار کے عزم میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ مزید یقین کے ساتھ اسلام پر جم گئے۔ راویانِ آثاروسیر کا بیان ہے کہ عماربن یاسر پہلے مکی مسلمان ہیں جنھوں نے اپنے گھر میں مسجد بنا ئی(مستدرك الحاكم، حديث نمبر 5762)۔ اسبابِ نزول کی روایات کے مطابق ذیل کی آیت انھیں کے بارے میں اتری تھی:
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ(39:9)۔يعني، بھلا کوئی شخص رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عاجزی کررہا ہو، آخرت سے ڈرتا ہواور اپنے رب کی رحمت کاامید وار ہو(وه اور غافل لوگ يكساں هيں)۔ کہو ، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی لوگ پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (الطبقات الكبري لابن سعد، جلد 3، صفحه 231)
