حالات کے نتیجہ میں
امام مالک سے پوچھا گیاکہ جبری طور پر کسی سے طلاق لی جائے تو طلاق واقع ہو گی یا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ جبری طلاق طلاق نہیں ہے۔ یہ خلیفہ منصور کازمانہ تھا۔ مدینہ میں اس کا جو گورنر تھا اس نے امام مالک کو ایسا فتویٰ دینے سے روکا۔ مگر امام مالک نہ مانے۔ اس کے بعد گورنر نے حکم دیا کہ امام مالک کو نوے کوڑے مارے جائیں۔ چنانچہ حکم کی تعمیل ہوئی۔ اور ان کی پیٹھ ننگی کر کے اس پر90 کوڑے مارے گئے (سیر اعلام النبلاء، جلد 11، صفحہ295) ۔
کوڑے کی مار سے اگرچہ امام مالک کی پیٹھ خون آلود ہو گئی تھی۔ لیکن گورنر نے دیکھا کہ اب بھی امام مالک کے اندر کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ ان کے پاؤں میں زنجیر ڈالی جائے اور چہرہ پر سیاہی لگا کر مدینہ کے راستوں میں گھمایا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اونٹ پر بٹھا کر ان کو مدینہ کے راستوں میں گھمایا گیا۔ امام مالک کا حال یہ تھاکہ اس وقت بھی وہ کہتے جاتے تھے:جو مجھ کو جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا تو میں مالک بن انس ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ زبردستی کی طلاق کچھ نہیں ہے: أَلَا مَنْ عَرَفَنِي، فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي، فَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَقُولُ: طَلَاقُ الْمُكْرَهِ لَيْسَ بِشَيْءٍ (سير أعلام النبلاء ، جلد7، صفحہ 179)۔
ایک خالص غیر سیاسی فتوے پروقت کے سیاسی حاکم نے اتنا شدید ردعمل کیوں ظاہر کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ اگرچہ بذات خود غیر سیاسی تھا۔ مگر وقت کے مخصوص حالات کی وجہ سے اس کے اندر سیاسی اہمیت پیدا ہو گئی تھی۔
اس زمانہ میں عملاً نسلی بادشاہت چل پڑی تھی۔ تاہم اسلام کے اثر سے حکمراں اس کو بھی ضروری سمجھتے تھے کہ وہ لوگوں سے بیعت لیں اور عوام کو یہ تاثر دیں کہ وہ عوامی رائے سے خلیفہ بنے ہیں ، نہ کہ محض شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے۔ مگر عوام ان حکمرانوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ خلفا جبری طور پر لوگوں سے بیعت لیتے تھے۔ اس پس منظر میں امام مالک کا فتویٰ بہت معنی خیز تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جبری طلاق جس طرح بے اعتبار ہے اسی طرح جبری بیعت بھی بے اعتبار ہے۔ گورنر کو اندیشہ ہوا کہ امام مالک کے فتوے کی وجہ سے خلیفہ کی بیعت لوگوں کی نگاہ میں غیر معتبر نہ ہو جائے۔ اسی لیے اس نے اس کا اتنا سخت نوٹس لیا۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک خالص غیر سیاسی مسئلہ بھی مخصوص حالات کے نتیجہ میں سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں مشرک بادشاہوں کا دعوت توحید کے خلاف شدید ردعمل بھی اسی قسم کے حالات کا نتیجہ تھا۔
