جدید عورت کی مظلومی
ایک سیاح امر یکہ گیا۔ ایک بار وہ وہا ں کے ایک کلب میں تھا جہا ں لڑکے اور لڑکیاں مل کررقص کر رہے تھے۔سیاح کنارے کی ایک کرسی پر بیٹھا ہواتھا۔ اچانک ایک امریکی لڑکی آئی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے اداس لہجے میں کہا’’:مسٹرسیاح، کیا میرے اندر گلیمر (Glamour)نہیں‘‘۔ ’’کیوں نہیں ، تمہارے اندر تو گلیمر ہے۔‘‘ سیاح نے جواب دیا۔ ’’پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی لڑکا مجھے ڈیٹ نہیں دیتا۔‘‘ لڑکی نے کہا۔
ڈیٹ (Date) کے معنی انگریزی زبان میں تاریخ کے ہوتے ہیں۔ مغربی ملکوں میں یہ لفظ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک رواج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ ہے ایک صنف کا دوسری صنف کو کسی مقررہ تاریخ کو مدعوکر نا۔ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کا تجربہ کرتے ہیں اور اس مقصدکے لیے ڈیٹ دے کر ایک دوسرے کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ مغربی زندگی میں یہ رواج اتنا زیادہ عام ہوگیا ہے کہ جس لڑکی کو کوئی لڑکا’’ڈیٹ‘‘ نہ دے وہ اپنے آپ کو کچھ کم سمجھنے لگتی ہے۔ اس کا خیا ل یہ ہو جاتا ہے کہ شادی کے بازار میں اس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ ڈیٹنگ کا یہ طریقہ ابتداء ً صرف گفتگواور ملاقات تک محدود تھا۔ اب بڑھتے بڑھتے وہ باقاعدہ جنسی تعلقات تک پہنچ گیا ہے۔ مغربی لڑکوں کے لیے یہ ایک مہذب طریقہ بن گیا ہے کہ وہ ڈیٹ دے کر ایک لڑکی کو تنہا کمرہ میں بلائیں اور پھر وہاں اس کے ساتھ جبری طور پر بد کاری کریں۔
اس سلسلے میں امریکی میگزین ٹائم (23مارچ 1987) نے ایک سبق آموز رپورٹ شائع کی ہے۔اس کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے— جب ڈیٹ زنا کاری میں تبدیل ہوجائے:
When the Date Turns into Rape.
سوسن(Susan) 22سال کی ایک غیر شادی شدہ خاتون ہے۔اس کی ملاقات ایک مرد سے ہوئی۔ جب دونوں رخصت ہونے لگے تو مرد نے اس کو ڈیٹ دی۔ اس کے مطابق دونوں ایک کمرے میں جمع ہوئے 45 منٹ تک وہ ٹیلی وزن دیکھتے رہے اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد مرد اس کے پاس آگیا اور آگے کے افعال کرنا شروع کردیے۔ عورت ٹھہروٹھہرو کہتی رہی۔ مگر مرد نہیںمانا۔ اس نے کہا کہ تم محض تکلف میں ایسا کہہ رہی ہو، ورنہ حقيقتاًتم مجھ کو روکنا نہیں چاہتی ہو:
“You really don’t want me to stop.”
اس کے بعد اس کمرہ میں وہ سب کچھ ہوا جس کو قانونی اصطلاح میں ’’زنابا لجبر ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس قسم کی ڈیٹ ریپ موجود ہ ترقی یافتہ ملکوں میں عام ہوچکی ہے۔ ڈیٹ کے ذریعہ بدکاری کرنا، بعض محققین کے نزدیک ، آج کا بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ کالج کے طلبہ کا جائزہ یہی بتاتا ہے جو کہ 6200 مردوں اور عورتوں کے درمیان 32 کیمپس میں تین سال تک کیا گیا۔ ماہر نفسیات میری کاس نے پایا ہے کہ جن عورتوں کو اس قسم کے تجربات ہوئے، جو کہ قانون کے مطابق زنا بالجبر کی تعریف میں آتے ہیں، ان میں آدھے سے زیادہ تعداد ڈیٹ کے ذریعہ بد کاری کرنے کی تھی۔ ایک لکچرراینڈری پیر ٹ نے اندازہ لگایاہے کہ دوکیمپس جن کا اس نے جائزہ لیا۔ان کی 20 فیصد خواتین کے ساتھ زنابالجبر کیا گیا تھا۔ 1985 مین زنا بالجبر کے واقعات کی تعداد 87340 تھی۔میری کاس نے کہا ڈیٹ کے موقع پر بدکاری کا خطرہ اس سے زیادہ ہے کہ اچانک جھاڑی سے نکل کر کوئی اجنبی شخص ایسا کرنے لگے۔ آزادیِ نسواں کے بعض علم برداروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں ایک بد کاری کلچر پیدا ہوچکا ہے جس میں مردوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ جارحانہ انداز اختیار کر یں اور عورتیں ان کے آگے سپر ڈال دیں۔
When the Date Turns into Rape.
Date rape, according to some researchers, is a major social problem so far studied mostly through surveys of college students. In a three-year study of 6,200 male and female students on 32 campuses, Kentucky State psychologist Mary Koss found that 15% of all women reported experiences that met legal definitions of forcible rape. More than half those cases were date rapes. Andrea Parrot, a lecturer at Cornell University, estimates that 20% of college women at two campuses she surveyed had been forced into sex during their college years or before, and most of these incidents were date rapes. The number of forcible rapes reported each year—87,340 in 1985—is believed to be about half the total actually committed. Says Koss: ‘‘You’re a lot more likely to be raped by a date than by a stranger jumping out of the bushes.’’ Some feminists argue that the U.S. has a ‘‘rape culture’’ in which males are encouraged to treat women aggressively and women are trained to submit.
(Times of India, 23 March, 1987, p. 35)
مسڑسر ی پر کاش (سا بق گورنر مہارا شٹر اور پاکستا ن میں پہلے ہندستانی ہائی کمشنر ) نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ 1947 میں انھوں نے ایک انگریز سے پوچھا کہ تم لوگ ہم ہندستانیوں کو حقیر کیو ں سمجھتے ہو۔ انگر یز نے اس سوال کے جواب میں جو کچھ کہا اس میں سے ایک بات یہ تھی’’: آپ لوگ شادی کے سلسلہ میں بہت سی پابندیاں ملحوظ رکھتے ہیں۔ یورپ کا نظر یہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکا اور لڑکی خود ایک دوسرے کو پسند کر کے شادی کرلیں۔ آپ کے یہاں ایسا نہیں ہوسکتا۔ آپ لوگ سماجی بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔“ (صفحہ 172)
آزادیِ نسواں کی تحریک کے آغاز میں یہ بات بہت اچھی معلوم ہوتی تھی۔ مگر غیرشادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان سے ہر قسم کی پابندیوں کو اٹھانے کا نتیجہ آخرکا رقبل ازنکاح صنفی تعلقات اور پھر زنا بالجبر کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس تجر بہ نے بتا یا کہ صنفی تعلقات کے معاملہ میں ’’پابندی ‘‘ کا اصول ہی صحت مند اصول ہے۔ اس معاملہ میں ’’آزادی ‘‘ کا اصول معاشرہ کو بربادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔
