وقت کی اہمیت
ایک شخص فوج میں معمولی سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوا۔ اس کے بعد ترقی کرتے کرتے بڑا فوجی افسر بن گیا۔ اس فوجی افسر نے ایک بار اپنی زندگی کا تجربہ بتاتے ہوئے کہا’’:فوج میں میری غیر معمولی ترقی کا سبب صرف میری یہ خصوصیت تھی کہ مجھ کو اگر دس بجے ڈیوٹی پر جانا ہوتا تو میں نو بجے تیار رہتا تھا‘‘۔
بظا ہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر یہ بہت اہم بات ہے ۔ یہ تمام ترقیوں کا راز ہے۔ زندگی کے معاملات میں وقت کی بے حد اہمیت ہے۔ جو شخص وقت کا جتنا زیادہ پابند ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ ترقی کے منازل طے کرے گا۔ اکثر ناکامیوں اور مصیبتوں سے بچنے کا واحد راز یہ ہے کہ وقت کو نہ کھویا جائے کسی نے بالکل سچ کہا ہے’’:وقت سے پہلے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کرو ، تمھاری گاڑی کبھی نہیں چھوٹے گی ‘‘۔
آپ کو ایک ٹرین پکڑنی ہے جو دس بج کر 3منٹ پر چھوٹتی ہے۔ آپ کے گھر سے اسٹیشن تک کا راستہ 30 منٹ کا ہے۔ اب اگر آپ یہ سوچیں کہ وقت سے پہلے جانے کی کیا ضرورت ۔ اور گھر سے صرف پانچ منٹ پہلے روانہ ہوں تو عین ممکن ہے کہ راستہ میں کوئی غیر متوقع واقعہ پیش آجائے جو آپ کے سفر کو 30 منٹ کے بجائے 40 منٹ یا 50 منٹ کا بنادے اور نتیجہ یہ ہو کہ آپ کی گاڑی چھوٹ جائے ۔ آپ اسٹیشن اس حال میں پہنچیں کہ وہاں آپ کو یہ سننے کے لیے ملے کہ آپ کی گاڑی آپ کے آنے کے صرف چند منٹ پہلے روانہ ہوگئی۔ جو شخص وقت سے پہلے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اس کی ٹرین بھی نہیں چھوٹتی۔ گر جب آدمی عین وقت پر اسٹیشن پہنچنا چاہے گا عین ممکن ہے کہ اسٹیشن پہنچ کر اس کو یہ خبر سننی پڑے کہ ٹرین روانہ ہوگئی۔
وقت کی پابندی حقیقتاً تیز روی کا نام ہے نہ کہ سادہ معنوں میں صرف پابندی کا ۔ وقت پر کار کردگی کا ثبوت صرف وہ شخص دے پاتا ہے جو وقت کے بارے میں مبالغہ آمیز حد تک حساس ہو۔ جو شخص وقت سے آگے چلنے کی کوشش کرے وہی وقت کے ساتھ چل پائے گا۔ جو شخص وقت سے آگے بڑھنے کا مزاج رکھتا ہو وہی وقت کو پکڑنے میں کامیاب ہوگا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص وقت سے پہلے تیار ہونے کی کوشش کرے وہی وقت پر تیار ہو کر اپنے کام پر پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی عین وقت پر اپنی تیاری شروع کرے وہ ہمیشہ وقت سے پیچھے رہے گا ۔ ایسا آدمی کبھی ٹھیک وقت پر اپنے کام پر نہیں پہنچ سکتا۔
آدمی اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اور نہ کسی آدمی کو موجودہ دنیا میں سارا اختیار حاصل ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کے راستہ میں دوسروں کی طرف سے بار بار مختلف قسم کی رکاوٹیں پیش آتی رہتی ہیں۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اندازہ کچھ کرتا ہے اور ہو کچھ جاتا ہے۔ اس بنا پر وقت کے مطابق کام کرنے کی صورت صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ ہر کام کے لیے وقت سے کچھ پہلے تیاری شروع کر دی جائے۔ جب آپ کوئی پروگرام بنا ئیں تو اس اتفاقی رکاوٹ کا لحاظ کر کے اپنا پروگرام بنائیں جو غیر متوقع طور پر پیش آکر آپ کے منصوبہ کو بگاڑ دینے والی ہے ۔ اگر آپ اپنے پروگراموں میں اس حکمت کو ملحوظ رکھیں تو یقینی طور پر آپ غیر ضروری قسم کی دخل اندازیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اور پھر آپ کے اوپر سیموئل ٹیلر کے یہ الفاظ صادق نہ آئیں گے کہ ’’ مشکل ایسا عذر ہے جس کو تاریخ کبھی قبول نہیں کرتی ‘‘۔
آپ کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو ایک ضروری کام نہ کر سکیں گے اور اس کے بعد کہیں گے کہ کیا کریں وقت نہیں ملا۔ یہ وقت نہ ملنے کا واقعہ صرف اس لیے پیش آیا کہ انھوں نے اپنے وقت کو برباد کیا ۔ وقت کی کمی ہمیشہ وقت کی بربادی کی قیمت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر بر وئر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ’’:جو لوگ وقت کا سب سے زیادہ غلط استعمال کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ وقت کی کمی کی شکایت کرتے ہیں ‘‘۔
___________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر11-12مارچ 1982کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔
