حالات کی رعایت
صحیح البخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے بعد کو جب کعبہ کی تعمیر کی تو انہوں نے اس کو حضرت ابراہیم کی اساس پر نہیں بنایا بلکہ اس کو بدل کر بنایا (حضرت ابراہیم نے کعبہ کو لمبائی میں بنایا تھا مگر قریش نے اس کو مربع صورت میں بنادیا۔ انہوں نے قدیم کعبہ کے ایک حصہ کو خالی چھوڑ دیا جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے)۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں نہیں کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی اساس پر بنا دیتے۔ رسول اللہ نے جواب دیا کہ تمہاری قوم ( قریش) ابھی جلد ہی کفر کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ اس سے بھڑک نہ جائے۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہو تا تو میں ضرور ایسا کرتا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1583)۔
امام البخاری نے یہ حدیث کتاب الحج (بَابُ فَضْلِ مَكَّةَ وَبُنْيَانِهَا) میں درج کی ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ امام البخاری کے قائم کردہ اس ترجمۂ باب پر اکتفا کر لیں تو وہ اس حدیث سے صرف فضائل مکہ جیسے مسائل اخذ کریں گے ، اس کے علاوہ اور کوئی تعلیم وہ اس حدیث میں دریافت نہ کر سکیں گے۔ حالانکہ اس حدیث میں اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم بیان کی گئی ہے۔ اس تعلیم کو ایک لفظ میں حکمتِ حیات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ صحیح بات یہ تھی کہ کعبہ کی اساس کو دوبارہ حضرت ابراہیم کی اصل اساس پر قائم کیا جائے۔ اس کو مشرکین کی اساس پر چھوڑنابظاہر ایک غیر صحیح فعل تھا اس کے باوجود آپ نے اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کی، کیوں کہ اس وقت کے حالات میں کعبہ کی تعمیر میں یہ تصحیح نئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کی اس سنّت سے یہ اصول اخذ ہو تا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ایسی صورت حال پیش آتی ہے جب کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کیا درست ہے (what is right) اور کیا نادرست (what is wrong)۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ممکن ہے (what is possible) اور کیا ممکن نہیں ہے (what is impossible)۔
یہ بے حد اہم بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کر نے کے لیے اس اصول کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اکثر ناکامیاں اس لیے پیش آئی ہیں کہ انہوں نے ممکن اور ناممکن کے اعتبار سے معاملے کو نہیں دیکھا بلکہ اس کو صرف درست اور نادرست کے اعتبار سے دیکھا اور پھر جو انہیں درست نظر آیا اس کی طرف وہ فوراً دوڑ پڑے۔ حالانکہ حالات کے اعتبار سے اس کا حصول ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بے نتیجہ قربانیاں تمام تر اسی اصول کو ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔
اس مہلک انجام کا واحد سبب تقلید ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کو البخاری کے ترجمۂ باب کی بنا پر صرف فضائل مکہ کے اعتبار سے دیکھا، وہ اس کو حکمت حیات کے اصول کے طور پر اخذ نہ کر سکے ، وہ تقلید کے دائرہ میں بند ہو کر رہ گئے ، وہ اجتہاد کی اگلی منزلیں طے نہ کر سکے جس کے بغیر ترقی کا سفر ممکن ہی نہیں۔
