طارق بن زیاد

طارق بن زیاد نے جب۔ رمضان92ھ(جولائی711ء) میں اسپین کو فتح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ طارق جب آ بنائے جبرالٹر کے ذریعہ سمندر کو پار کر کے اسپین کے ساحل پر اترے تو انہوں نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی فوج کو اسپینیوں سے جنگ پر اکساتے ہوئے کہا:

أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ؟ ٱلْبَحْرُ مِنْ وَرَائِكُمْ، وَٱلْعَدُوُّ أَمَامَكُمْ، فَلَيْسَ لَكُمْ وَٱللهِ إِلَّا ٱلصِّدْقُ وَٱلصَّبْرُ (وفيات الأعيان ، جلد5، صفحہ 321)۔ یعنی،اب بھاگنے کی جگہ کہاں۔ سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے ہے۔ خدا کی قسم اب تمہارے لیے صدق اور صبر کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

حقائق کا گہرا تجزیہ بتاتا ہے کہ کشتیوں کو جلانے کا یہ قصہ محض داستاں گو قسم کے لوگوں کی ایجاد ہے، وہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں۔ ایک عرب مصنف نے لکھا ہے کہ اسپین میں ایک مثل ہے کہ میں نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں (أَحْرَقْتُ كُلَّ سُفُنِي)۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اپنی ساری طاقت خرچ کر دی۔ یعنی جنگ کرو یا مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ)أَيْ بَذَلْتُ كُلَّ طَاقَتِي، بِمَعْنَى:قَاتِلُوا أَوْ مُوتُوا(۔ممکن ہے کہ یہی اسپینی مثل عربی میں ترجمہ ہوئی ہو، اور پھر کچھ لوگوں نے اس کو لفظی معنی میں لے کر بطور خودکشتیوں کو جلانے کا افسانہ گھڑ لیا ہو۔

طارق بن زیاد کا قافلہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں اسپین میں داخل ہوا ہے۔ اس زمانہ کی معاصر تاریخ میں یا کسی بھی قریبی زمانہ کی تاریخی دستاویز میں کشتیوں کے جلانے کا کوئی ذکر نہیں۔ ابتدائی دور کی تمام کتابیں اس کے ذکر سے خالی ہیں۔ یہ قصہ پہلی بار ان کتابوں میں ملتا ہے، جو اصل واقعہ کے ساڑھے چار سو سال بعد چھٹی صدی ہجری میں لکھی گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس واقعہ کی خبر معاصر مورخین کو یا قریبی زمانہ کے تاریخ دانوں کو نہ ہو سکی، اس کی خبر سیکڑوں سال بعد کے مصنفین کو کیسے ہوگئی۔

طارق بن زیاد کے فتح اسپین(92ھ) کے بارے میں قدیم ترین ماخذ دو کتابوں کو مانا گیا ہے۔ یہ دونوں کتابیں چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں۔ اور ان میں احراق سفن (کشتیاں جلانے) کا مطلق کوئی ذکر نہیں۔ وہ کتابیں یہ ہیں:

تاریخ افتتاح الاندلس، ابن القوطیہ، م367ھ

اخبار مجموعہ، مصنف کا نام لامعلوم، یہ کتاب چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی۔

ان کے علاوہ چوتھی صدی ہجری میں کئی مشہور مسلم مورخ گزرے ہیں۔ مثلاً ابن عبدالحکیم (فتوح مصر و المغرب والاندلس) عبدالملک بن حبیب(مبتدأخلق الدنیا) ا بوبکر حمد القرطبی(تاریخ افتتاح الاندلس)احمد بن محمد، ابن الفرضی (تاریخ علماء الاندلس) الخشنی (قضاۃ قرطبہ) وغیرہ۔ ان مورخین کے یہاں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ طارق بن زیاد نے اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد اپنی کشتیوں کو آگ لگا دی تھی۔ حتٰی کہ اس کے بعد پانچویں صدی ہجری کے مشہور مورخ علامہ ابن خلدون تک کے یہاں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔

احراق سُفُن(کشتیوں کو جلانے) کا واقعہ پہلی بار چھٹی صدی ہجری میں بیان کیا گیا۔ ابو مروان عبدالملک بن الکردبوس چھٹی صدی ہجری کا ایک مورخ ہے۔ اس نے اپنی کتاب تاریخ الاندلس میں اس قصہ کو درج کیا۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ قصہ اس کو کس ذریعہ سے معلوم ہو۔ اس لیے آج ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس کے ماخذ کی تحقیق کریں۔

 دوسرا شخص جس نے ابتداء ً اس قصہ کو بیان کیا وہ بھی چھٹی صدی ہجری کا ہے۔ یہ ابو عبداللہ محمد الادریسی(560ھ) ہے۔ اس نے نزہتہ المشتاق کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں احراق سفن کا قصہ درج کیا۔ مگر اس نے بھی اس کا کوئی ذریعہ نہیں بتایا۔ انہیں دونوں کتابوں سے لے کر دوسرے لوگوں نے اس قصہ کو نقل کرنا شروع کر دیا۔

 اب سوال یہ ہے کہ جو واقعہ لوگوں کو ساڑھے چار سو سال تک معلوم نہ تھا، وہ ساڑھے چار سو سال بعد کس طرح لوگوں کے علم میں آگیا۔ ایسی حالت میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ قصہ سراسر فرضی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی دانش مند جنرل ایسا نہیں کر سکتا۔ اسپین میں قیام کے دوران طارق کا اتصال افریقہ(مغرب) سے برابر جاری رہا۔ اگر کشتیاں جلادی جاتیں تو یہ اتصال کیوں کر ممکن ہوتا۔ طارق نے اسپین کے حالات کا اندازہ کرنے کے بعد موسیٰ بن نصیر(مقیم افریقہ) سے مدد طلب کی۔ چنانچہ موسیٰ بن نصیر نے پانچ ہزار مزید فوجی بطور امداد روانہ کیے۔ یہ پیغام رسانی اور سمندر میں لشکر کی منتقلی کشتیوں کے بغیر کیسے ممکن ہوئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion