خدا کی سنّت

قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے حق کو قبول نہیں کیا۔ اس نے اس کے مقابلے میں سرکشی دکھائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سمندر میں غرق کر دیا گیا۔

اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے کہ فرعون اوراس کی قوم نے کتنے ہی باغ اور چشمے اور کھیتیاں اور آرام دہ مکانات اور عیش کے سامان جن میں وہ خوش رہتے تھے چھوڑ دیے۔ اللہ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور ان چیزوں کا وارث اللہ نے دوسروں (بنی اسرائیل) کو بنا دیا۔ پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین اور انہیں مہلت مل سکی۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کو ذلّت کے عذاب سے نجات دی یعنی فرعون سے۔ بے شک وہ سرکش اور حد سے نکل جانے والا تھا۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا والوں پر ترجیح دی۔ اللہ نے ایسا اپنے علم کی بنا پر کیا اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا۔ (الدخان، 44:25-33)

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا اتفاقی طور پرنہیں ہوتا اورنہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے دوسری قوم کے اوپر غالب آ گئی۔ یہ تمام تر خدا کے علم کے تحت ہوتا ہے۔ یہ خدا ہے جو خود اپنے فیصلہ کی بنا پرایک کے لیے مغلوبیت کا اور دوسرے کے لیے غلبہ کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ فیصلہ اس استحقاق کی بنا پر ہوتا ہے جو کسی قوم نے علم الٰہی کے مطابق اپنے لیے ثابت کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جب ایک قوم غالب اور دوسری قوم مغلوب ہو جائے تو دونوں کو چاہیے کہ اس واقعہ کووہ خدا کی طرف منسوب کریں ، نہ کہ کسی اور کی طرف۔ اگر یہ ذہن ہو تو وہ دونوں صحیح راستہ پر قائم رہیں گے۔ غالب قوم اپنے غلبہ پر خدا کا شکر ادا کرے گی ، نہ کہ وہ غلبہ کو اپنا کارنامہ سمجھ کر فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے ۔

دوسری طرف مغلوب قوم اگر مغلوب ہونے کے بعد غالب قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم شروع کر د ے تو یہ اس کے لیے سراسر ایک غلط فعل ہو گا۔ کیوں کہ غالب قوم خدا کے علم اور فیصلہ سے غالب ہوئی ہے، نہ کہ محض اپنی سازشوں یا جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اس نے غلبہ پایا ہے۔ایسی حالت میں مغلوب قوم کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی ان اندرونی خامیوں کو دورکرے جس کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں بے استحقاق ثابت ہوئی ہے۔ وہ خدا کی طرف متوجہ ہو ، نہ کہ مفروضہ ظالموں کی طرف۔ جب اصل کرنے والا خدا ہے تو دوسروں کے خلاف ہنگامہ کرنے سے کیا فائدہ۔

یہ بات سادہ معنوں میں محض توجیہہ کی بات نہیں ہے بلکہ یہ وہ بات ہے جس پر قوموں کا مستقبل بنتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس پر قوموں کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ صحیح ذہن سے صحیح منصوبہ بندی وجود میں آتی ہے۔ اور اگر ذہن غلط ہو تو منصوبہ بندی بھی غلط ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی جدید تاریخ اس کی نہایت واضح اور عبرت ناک مثال پیش کرتی ہے۔

جدید دور میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے مغلوب ہو گئے۔ کہیں براہِ راست طور پر مسلمانوں کے اوپر غیر مسلم قوموں کا غلبہ قائم ہو گیا اور کہیں بالواسطہ طور پر۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں اکثر ملکوں میں غیر مسلم اقوام کا براہِ راست غلبہ بظاہر ختم ہو گیا ہے۔ تاہم ان کا بالواسطہ غلبہ بدستور مزید شدت کے ساتھ باقی ہے۔

اس صورت حال کے پیش آنے کے بعد مسلمانوں نے کیا کیا۔ ساری دنیا میں مسلمانوں نے اس کے جواب میں ایک ہی کام کیا ہے اور وہ ہے غیر مسلم اقوام کے خلاف چیخ پکار، یا ان سے ٹکراؤ۔ تاہم ایک صدی سے بھی زیادہ مدت کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی لفظی چیخ پکار فضا میں گم ہو گئی اور ان کی ٹکراؤ کی سیاست آخر کار صرف مزید بربادی پر ختم ہوئی۔ مسلمانوں کو ان کی پرشور کوششوں کا اتنا بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا جتنا انہوں نے اپنے بچے ہوئے اثاثہ میں سے اس کی راہ میں خرچ کیا تھا۔

اس کی واحد وجہ وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یعنی غلط ذہن کی وجہ سے غلط منصوبہ بندی۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں غیر مسلم اقوام کے غلبہ کو صرف اس نظر سے دیکھا کہ یہ کچھ ظالم لوگ ہیں جو اپنی سازشوں اور جارحانہ کارروائیوں کے ذریعہ مسلمانوں کے اوپر غالب آ گئے ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کو خود غالب قوموں کا معاملہ سمجھا ، نہ کہ خدا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ساری توجہ غالب اقوام کے خلاف جھوٹی چیخ پکار اور جھوٹی لڑائیوں میں صرف ہو گئی۔

اس کے برعکس، اگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا ذہن قرآن کی روشنی میں بنا ہوتا تو وہ سمجھتے کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کے علم اور خدا کے فیصلہ کے تحت ہوا ہے۔ یہ خود خدا ہے (نہ کہ کوئی قوم) جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو مغلوب کر کے دوسری قوموں کو ان کے اوپر غالب کر دیا ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر یہ ذہن ہوتا تو وہ قوموں کی طرف دوڑنے کے بجائے خدا کی طرف دوڑتے۔ وہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے اپنی اندرونی اصلاح پر سارا زور لگا دیتے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کی نظر میں بے استحقاق ہونے کی وجہ سے مسلمان مغلوب کیے گئے تھے۔ اور خدا کی نظر میں استحقاق ثابت کر کے ہی وہ دوبارہ غالب حیثیت حاصل کر سکتے تھے۔ مگر مسلمان بروقت اس راز کو سمجھ نہ سکے ۔ ایسے لوگوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں پست اور بے قیمت ہو کر رہ جائیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion