عصر حاضر میں تعمیری کام
مسلمانوں نے پچھلے دو سو برس کے اندر کوئی بھی ٹھوس تعمیری کام نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ عقلی نقطۂ نظر کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی نقطۂ نظر نے ایک فکری انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس انقلاب نے دینی عقائد کو دور جاہلیت کی چیز قرار دے کر ان کو تاریخ کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمان اٹھیں اور دینی عقائد اور تعلیمات کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم کریں ۔ مگر اس پوری مدت میں منفی ہنگاموں کے سوا مسلمان اور کچھ نہ کرسکے۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زمانے میں تبدیلی واقع ہوئی اور دینی عقائد کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے۔ مگر یہ کام تمام تر عیسائی اور یہودی علما نے انجام دیا۔ اس میں مسلمانوں کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں ۔ جدیدسائنس نے خدا کو کائنات کے نقشہ سے حذف کردیا تھا۔ اب دوبارہ خدا کائنات کے نقشہ میں نظر آرہا ہے مگر اس عمل کو انجام دینے والے وہ لوگ ہیں ، جن کے نام جیمز جینز اور اڈنگٹن جیسے ہیں ۔
یہی معاملہ تمام دینی تعلیمات کا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دنیا میں دوسرے الہامی مذاہب (عیسائیت، یہودیت) بھی موجود تھے۔ اسلام اور ان مذاہب کے درمیان تعلیمات اور تاریخی شخصیتوں کا اشتراک ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تعلیمات اور اپنی تاریخ کو عقلی اور سائنسی طورپر معتبر ثابت کرنے کے لیے جو تحقیقات کیں اس کا فائدہ بالواسطہ طورپر اسلام کے حصہ میں بھی آگیا۔ مثلاً علم الآثار کی تحقیق جس نے قرآن میں مذکور اقوام اور شخصیتوں کو تاریخ کی روشنی عطا کی۔
نظریۂ ارتقا کی تردید، جس نے خالق کے عقیدہ کو دوبارہ بحال کیا۔ عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی فرق کو ثابت کرنا جس نے خاندان کے بارے میں اسلامی قوانین کو دوبارہ اعتباریت (credibility) عطا کی۔ حتیٰ کہ اسلام کی قدیم عربی کتب کو مخطوطات کے دور سے نکال کر مطبوعات کے دورمیں داخل کرنا بھی انھیں عیسائیوں اور یہودیوں کا کارنامہ ہے۔ غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ جس زبان میں اعلیٰ لٹریچر موجود ہے، وہ انگریزی زبان ہے۔ اس سلسلہ کی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سیرت کی مستند کتاب ،سیرت ابن ہشام کا مکمل ترجمہ پہلے انگریزی میں ہوا اور اس کے بہت دیر بعد کسی مسلم زبان میں ۔ (اوراقِ حکمت، ڈائری، 15 جون 1985)
مولانا عبد العزیز قاسمی مدرسہ بیت العلوم (دفع احسن سُریاپیٹ ، ضلع نلگنڈہ) میں استاد ہیں انہوں نے 1983 کا ایک واقعہ بتایا۔
کڈ پہ( آندھرا پردیش) میں سیرت البنی کا جلسہ تھا۔ مولانا عبدالعزیز قاسمی بھی اس جلسہ میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جلسہ سڑک پر ٹینٹ لگا کر کیا جارہا تھا۔ شامیانہ کے نیچے فرش اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ عین اس وقت ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ یہ کسی دیوی کا جلوس تھا۔ وہ گزرتا ہوا جلسہ گاہ کے قریب پہنچ گیا۔ جلسہ کے منتظمین نے جب یہ دیکھا تو ان کے چند افراد آگے بڑھ کر جلوس کے قائدین سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ اس سڑک سے آپ کا جلوس نکلنے والا ہے ، ورنہ ہم یہاں آج اپنا جلسہ نہ رکھتے۔ بہرحال آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں ، ہم اپنا جلسہ تھوڑی دیر کے لیے روک کر ٹینٹ اور کرسیاں وغیرہ ہٹا دیتے ہیں ۔ آپ کا جلوس جب گزر جائے گا تو اس کے بعد دوبارہ اس کو لگا لیں گے۔
جلسہ سیرت النبی کے لوگوں نے جب اس قسم کی پیشکش کی تو جلوس والوں کے دل نرم پڑگئے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ جیسے ہمارا جلوس ہے ویسے ہی آپ کا جلسہ بھی ہے۔ آپ اپنے جلسہ کو گڑبڑ نہ کریں ۔ ہم لوگ بازو کی گلی سے نکل کر پھر سڑک پر آ جائیں گے۔ آپ کا جلسہ بھی جاری رہے گا۔ اور ہمارا جلوس بھی نکل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ راستہ بدل کر آگے چلے گئے۔
مسلمان اگر جلوس کو روکتے تو بات بڑھتی اور فساد ہوتا، مگر جب مسلمانوں نے جلوس کو نہیں روکا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اگر نرمی اختیار کریں تو وہ لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے، انھیں اس واقعہ سے سبق لینا چاہئے۔ (ڈائری، 10 اکتوبر 1984)
