موجودہ مسلم معاشرہ
اب مسلم معاشرہ کو لیجیے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل تقریباً رک گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر مقلدانہ طرزِ فکر کارواج ہو گیا ، اور مجتہدانہ طرز ِفکر کا اس طرح خاتمہ ہو گیا جیسے کہ وہ کوئی برائی ہو اور جس کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہو۔ عام طور پر لوگوں کا ذہن یہ بن گیا کہ علم و تحقیق کا سارا کام علمائے سلف کر چکے ہیں۔ اب ہمارے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان کی کتابوں کو پڑھیں اور ان کا اتباع کریں۔ مگر اس قسم کی سوچ فکری ترقی کے لیے ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے طرز ِفکر کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ دونوں صورتیں حسب ذیل ہیں :
1۔ میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے مگر میں اسلاف کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔
2۔ میر اقد اسلاف سے چھوٹا ہے اس لیے میں اسلاف کے قدموں میں پڑا ہوا ہوں۔
مذکورہ تقسیم میں پہلا طرز فکر مجتہدانہ ہے۔ وہ مسلم گروہ کے علمی اور ذہنی سفر کو مسلسل ترقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ جس گروہ کے اندر یہ فکری روایت ہو اس کی ہر اگلی نسل اپنی پچھلی نسل کا مکمل احترام کرتے ہوئے اس کی ترقی کو زینے کے طور پر استعمال کرے گی۔ اس طرح ہر اگلی نسل اپنی پہلی نسل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتی رہے گی۔
اس کے مقابلے میں دوسرا طرزِ فکر مقلد انہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی سفر کو ایک حد پر روک دینے والا ہے۔ اس طرزِ فکر کا بیک وقت دو نقصان ہوگا۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ اسلام کے اعلیٰ فکری در جات پر پہنچنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ اضافہ پذیر معرفت سے آشنا نہ ہوسکیں گے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوگا کہ وہ علمی و فکری میدان میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں گے۔ انسانیت کے رواں دواں قافلےمیں وہ گرد راہ بن کر رہ جائیں گے۔
یہ تقلیدی طرز فکر عین وہی ہے جس کو جاہلی دور کے مشہور شاعر عنترة بن شداد العبسي (وفات 615ء) نے اپنے معلقہ کے مَطلع میں ان الفاظ میں بیان کیا تھا :
هَلْ غَادَرَ الشّعراءُ مِنْ مُتَرَدَّمِ
اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے شعراء نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے۔ یعنی وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں، اب کسی شاعر کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ اضافہ کر سکے۔
ادب کی دنیا کا یہ طرزِ فکر جب مذہب میں داخل ہو جائے تو اس کو تقلیدی فکر کہا جاتا ہے۔اس قسم کا تقلیدی فکر ذہنی ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دینے والا ہے۔ اور بلاشبہ ذہنی جمود سے زیادہ مہلک کوئی اور چیز کسی فرد یا گروہ کے لیے نہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں میں ذخیرہ ٴحدیث سے چند مثالیں دوں گا۔
