ترقی کے بجائے تنزل
امریکی میگزین ٹائم کی اشاعت 29 دسمبر 1986 ایک اسپیشل نمبر تھی جس کو اس نے 2086کے نا م ایک (A Letter to the Year 2086)کا عنوان دیا تھا۔ اس شمارے میں مختلف پہلوؤں سے امریکا کا حال، آنے والی صدی کو بتایا گیا تھا۔ اس کا ایک جزء خاندان کے احوال کے بارے میں بھی تھا۔ اس میں جو احوال لکھے ہوئے تھے، اس کا ایک حصّہ یہ تھا:
‘‘The American family, not 50 years ago the rock on which the country built its church, has fractured into atoms with separate orbits. The American woman, having shunned motherhood and house-wifehood 15 years ago to establish herself in the labor market, now seeks to balance all three lives like dinner plates on sticks. The American man finds himself in new and scary territory and scrambles for adjustment. When the American man and woman part company, as half the newly married couples are expected to do these days, the American child is suddenly stranded, growing taller without a structure.’’ (pp. 20-21)
پچاس سال پہلے امریکی خاندان ایک چٹان تھا جس پر ملک نے اپنا معبد تعمیر کیا تھا، اب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہے۔ امریکی عورت نے مادری ذمہ داری اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داری کو پندرہ سال پہلے چھوڑدیا تھا تاکہ وہ روزگار کے بازار میں اپنی جگہ بناسکے۔ اب وہ ان تینوں ذمہ داریوںکو سنبھالنے کے نازک کام کی کوشش کررہی ہے۔ امریکا مرد اپنے آپ کو ایک نئی سخت دنیا میں پارہا ہے اور بمشکل ہم آہنگی کی کوشش کررہا ہے۔ جب امریکی مرد اور عورت ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں، جیسا کہ شادی شدہ جوڑوں کی نصف تعداد آج کل کرتی ہے، تو امریکی بچہ اپنے سرپر ستوں سے محروم ہوکر ایسا محسوس کرتاہے کہ وہ کسی سہارے کے بغیر پروان چڑھ رہا ہے۔
بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر امریکا کا دانشور طبقہ اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں امریکا نے جس چیزکو ترقی کا زینہ سمجھ کر اختیار کیا تھا، وہ اس کےلیے صرف بربادی کا زینہ ثابت ہوا ہے۔ عورت کو گھر سے باہر نکالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکا کا خاندانی نظام بالکل منتشر ہو کر رہ گیا۔مزید یہ کہ عورت کو’’آزاد‘‘ کرانے کا خوش نما منصوبہ عملاً ازدواجی زندگی کو غیر مستحکم بنانے کا ذریعہ ثابت ہوا، اور اس کے نتیجےمیں بے شمار معاشرتی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔
اب امریکا میں اس سابقہ فکر پر نظر ثانی کاذہن پیدا ہورہا ہے۔ مگر جدید عورت چونکہ دوبارہ گھریلو عورت بننے کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے جو عورت نئی زندگی کواختیار کرتی ہے اس کے حصہ میں صرف یہ آرہا ہے کہ وہ باہر کی ذمہ داریوں کے ساتھ گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھائے۔ کیسی عجیب ہے وہ ترقی جس کا نتیجہ بربادی کی صورت میں ظاہر ہو، کیسی عجیب ہے وہ آزادی جو عملاً غیر آزادی بن جائے۔
