حقیقت پسندی

کسی کا قول ہے کہ — ’’اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے‘‘۔ کوئی آدمی جب اتنا ہی چاہے جس کا وہ واقعی طور پر حق دار ہے تو ہر چیز اس کی مانگ کی تصدیق کر رہی ہوتی ہے۔ اور جب وہ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہنے لگے تو ہر چیز اس کے خلاف ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ۔ اور دوسرا آدمی ہمیشہ ناکام۔

ایک بڑا ادارہ تھا۔ اس میں ایک منیجر کی ضرورت تھی۔ ایک آدمی کے اندر انتظامی صلاحیت تھی۔ چنانچہ اس آدمی کو وہاں مینجر کی حیثیت سے رکھ لیا گیا ۔ ادارہ کے ڈائر کٹر نے منیجر کے ساتھ کافی رعایت کا معاملہ کیا۔ معقول تنخواہ ، رہنے کے لیے مکان ، آنے جانے کے لیے ایک جیپ ، اور دوسری کئی چیزیں انھیں حاصل ہو گئیں۔

مگر کچھ دنوں کے بعد اس آدمی کے ذہن میں زیادہ کی حرص پیدا ہوگئی ۔ ’’مینیجر‘‘ کی حیثیت اس کو کم لگی ، اس نے چاہا کہ ڈائرکٹر کی سیٹ پر قبضہ کر لے۔ اب منیجر نے چپکے چپکے ڈائرکٹر کے خلاف منصوبہ بنایا۔ مگر منصوبہ کی کامیابی سے پہلے ڈائرکٹر کو اس کی خبر ہوگئی ۔ اس نے فوری کارروائی کر کے اس آدمی کو مینیجرکی پوسٹ سے ہٹا دیا۔ مکان اور جیپ وغیرہ بھی چھین لی گئی۔ ان کو ذلت کے ساتھ ادارہ سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ وہی چیز ہے جس کو اخلاقی زبان میں قناعت اور حرص کہا جاتا ہے۔ اپنی واقعی حیثیت پر راضی رہنے کا نام قناعت ہے۔ اور اپنی حیثیت سے زیادہ چاہنے کا نام حرص ۔ مذکورہ آدمی اگر قناعت کا طریقہ اختیار کر تا تو وہ نہ صرف کامیاب رہتا بلکہ مزید ترقی کرتا۔ مگر حرص کا طریقہ اختیا ر کر کے اس نے اپنے پائے ہوئے کو بھی کھو دیا، اور آئندہ جو کچھ وہ  پاسکتا تھا اس کو بھی۔

جب آپ اپنے حق کے بقدر چاہتے ہیں توآپ وہ چیز چاہ رہے ہوتے ہیں جو واقعتاً آپ کی ہے ، جو از روئے انصاف آپ ہی کو ملنا چاہیے مگر جب آپ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہیں تو گویا آپ ایسی چیزچاہ رہے ہیں جو از روئے انصاف آپ کی چیز نہیں ہے، بلکہ دوسرے کی چیز ہے۔ پھر دوسرا شخص کیوں آپ کو اپنی چیز دینے پر راضی ہو جائے گا۔

جب بھی آدمی اپنے حق سے زیادہ چاہے تو فوراً اس کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب کش کش اور ضد اور مزاحمت وجود میں آتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اصل سے زیادہ کی طلب میں اصل کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔

اپنے حق سے زیادہ کی طلب کرتے ہی یہ ہوتا ہے کہ آدمی تضاد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے حصہ کی چیز لینے کے لیے ایک دلیل دیتا ہے ، اور دوسرے کے حصہ کی چیز پر قبضہ کرنے کے لیے دوسری دلیل استعمال کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مقدمہ کو خود ہی کمزور کر لیتا ہے۔ وہ اپنی نفی آپ کر دیتا ہے۔ دوقسم کی دلیلوں سے وہ ثابت کرتا ہے کہ پہلی چیز اگر اس کی ہے تو دوسری چیز اس کی نہیں ہے،اور اگر دوسری چیز اس کی ہے تو پہلی چیز اس کی نہیں ہو سکتی۔

ایسے آدمی کے اوپر وہ مثال صادق آتی ہے کہ جو شخص دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے وہ ایک کو بھی پکڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح جو شخص اپنے اصل حق کے ساتھ مزید کا طالب بنے ، وہ اصل کو بھی کھو دے گا اور اسی کے ساتھ مزید کو بھی۔

ہر آدمی جو دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ خاص صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ ہر آدمی کو اس کے پیدا کرنے والے نے اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ ایک کامیاب زندگی حاصل کرے ۔ مگر ہر آدمی کی ایک حد ہے۔ اور ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی حد کو جانے۔ جب آدمی اپنی حد کے اندر رہے تو دنیا کی تمام طاقتیں اس کو کامیاب بنانے کے لیے اس کی پشت پر آجاتی ہیں اور جب وہ اپنی حد سے آگے بڑھنے لگے تو ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے آدمی کے لیے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام اس دنیامیں مقدر نہیں۔

_______________________________________________

آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 19 اپریل اور 26 اپریل 1990 کو نشرکیا گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion