جاپان کی مثال

جاپا ن کی عورتوں کے بارے میں  ایک رپورٹ اخبارات میں  شائع ہوئی ہے۔ اس میں  دکھا یا گیا ہے کہ جاپان میں  اگرچہ 15 ملین کارکن خواتین موجود ہیں۔ مگر یہ زیادہ تر معمولی کاموں میں  مصروف ہیں۔ وہ اپنے مرد افسروں (male superiors)کی مدد گار کے طور پر کام کرتی ہیں۔

36 سال بعددوخواتین جاپانی کا بینہ میں  لی گئی ہیں۔وہ بھی زیادہ تر متحدہ اقوام کے موسم خواتین کی رعایت سے جو 1985 میں  ختم ہورہا ہے۔ جاپان میں  اس وقت 608 ڈپلومیٹ ہیں۔ ان میں  خواتین کی تعداد صرف 12 ہے۔ جاپان آج بھی بنیادی طور پر مردوں کا سماج (male-dominated society)ہے۔

رپورٹ میں  جاپان کی موجودہ خاتون وزیر کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

“A bill, yet to be passed by the parliament on ending discrimination against women, is considered by many of its male critics to be reverse discriminatory.”

عورتوں کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے والا ایک بل جاپانی پارلیمنٹ میں  ہے مگر وہ اب تک پاس نہ ہوسکا۔ اکثر مرد نا قدین اس بل کو برعکس امتیاز پیدا کرنے والاا قدام سمجھتے ہیں (انڈین اکسپریس ،24نومبر 1984 ) ۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کی مساوی شرکت کے بغیرقومی ترقی نہیں ہوسکتی انھیں اس واقعہ سے نصیحت لینا چاہیے۔ جاپان دور جدید کا انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ مگر یہ ترقی اس کو اس کے بغیر حاصل ہوتی ہے کہ اس نے اپنی خارجی سرگرمیوں کے تمام میدانوں میں  عورتوں کو برابر کے شریک کی حیثیت سے داخل کردیا ہو۔

 قد یم زمانہ میں  عورت اور مرد کے کام کا دائرہ الگ الگ سمجھاجاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں  حد بندی کوختم کر دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس سے تر قی کی رفتا ر تیز ہوگی۔مگرتجربے نے بتایاکہ تقسیم عمل کے قدیم نظام کو توڑ نے کا کوئی فائدہ تمدنی ترقی کے اعتبار سے نہیں ہوا۔ جن ملکوں میں  عورت اور مرد دونوں کو زندگی کے ہر میدان میں  برابر کا شریک قرار دیا گیا ہے وہا ں بھی عملاً زندگی کے تمام تر قیاتی کام مردوں ہی کے ہاتھ میں  ہیں ،نہ کہ عورتوں کے ہاتھ ہیں۔

جاپان کی مذکورہ مثال بھی اس کی تردید کرتی ہے۔ جاپان پورے معنوں میں  دورجدید کا ایک تر قی یافتہ ملک ہے مگر وہاں کا سماج ابھی تک قدیم انداز کے مطابق مردوں کے غلبہ کا سماج ہے۔ جاپان کی مثال ثابت کرتی ہے کہ ترقی کے لیے عورتوں کی مفروضہ مساوی شرکت ضروری نہیں۔ ایک امریکی خاتون شرمن بیبیر (Sharmon Babior) نے اس معاملہ میں  جاپان اور امریکا کےفرق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں  یہ نہیں سمجھتی کہ امریکی عورت اس جاپانی نقطۂ نظر کو برداشت کر سکتی ہے کہ شوہر اپنے گھر کا حاکم ہے

‘‘I don’t think American women would tolerate the “Teishukanpaku” (the husband is the ruler of his home) behaviour.’’

(The Times of India, New Delhi, December 1, 1987)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion