مغربی قو میں
صلیبی لڑائیوں میں مسلمانوں نے یورپ پر فتح پائی۔ مگر اس کے بعد یورپ میں اسی طاقت سے اسلام کی اشاعت نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ یورپی قوموں میں صلیبی جنگوں (کروسیڈس) کی تلخ یاد ہے، صلیبی لڑائیوں میں یورپ کو اسلامی دنیا کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں یوروپی قوموں کے اندر اسلام کے خلاف نفرت اور تعصب پیدا ہو گیا۔ یہی صلیبی نفرت ہے جو یورپ میں بڑے پیمانہ پر اسلام کی اشاعت میں مانع رہی۔
تاہم پچھلی صدیوں میں جب یورپ نو آبادیاتی طاقت بن کر ابھرا تو وہاں کی فضا بدل گئی۔ اب یورپ نے صلیبی شکست کا بدلہ مسلمانوں سے لے لیا تھا۔ کیوں کہ مسلم دنیا کے بڑے حصہ پر یورپی قوموں کا براہ راست یا بالواسطہ اقتدار قائم ہو گیا۔
مفتوح کے اندر فریق ثانی کے لیے نفرت کے جذبات ہوتے ہیں۔ اس لیے مفتوح فریق ثانی کی کسی چیزکو قبول کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ خواہ وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس فاتح کی نفسیات میں بے نیازی ہوتی ہے۔ اس لیے اسے فریق ثانی کی کسی چیز کو قبول کرنے میں کوئی نفسیاتی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس بنا پر جب نو آبادیاتی دور آیا تو یورپ میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے زبردست امکانات پیدا ہو گئے۔ ’’مفتوح‘‘ یورپ میں اسلام کی اشاعت مشکل تھی ، مگر ’’فاتح‘‘ یورپ میں اسلام کی اشاعت اتنی ہی آسان ہو چکی تھی۔
مگر اب یہاں ایک اور نفرت رکاوٹ بن گئی۔ پہلے جو چیز یورپی قوموں کی طرف سے تھی وہی چیز اب خود مسلم قوموں کی طرف سے پیدا ہو گئی۔ نوآبادیاتی دور میں چونکہ یورپ نے مسلم قوموں کو سیاسی اور تہذیبی شکست دی تھی، اس لیے مسلمانوں کے اندر یورپ کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ وہ یورپی قوموں کو مادی رقیب اور قومی حریف کی نظر سے دیکھنے لگے۔ انہوں نے ان کو نفرت کی نظر سے دیکھا ، نہ کہ ہمدردی کی نظر سے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نو آبادیاتی دور میں بھی یورپ کو خدا کے دین کا مخاطب نہ بنا سکے ۔ مسلمانوں اور یورپی قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ماضی میں ایک سبب سے قائم نہ ہوسکا اور حال میں دوسرے سبب سے۔
