انتقام سےتشدّدتک
اکثرایساہوتاہےکہ اگرایک شخص کودوسرےشخص سےکوئی تکلیف پہنچ جائے یا ایک گروہ کودوسرےگروہ کی طرف سےکوئی ٹھیس پہنچےتوفوراًان کےاندرانتقام کاجذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔وہ فریق ثانی سےانتقام لینےکےلیے اٹھ کھڑے ہوتےہیں۔ایسےلوگ تاریخ کی اس وارننگ کوبھول جاتےہیں جوہرجگہ خاموش الفاظ میں گونج رہی ہے۔انتقام لینے سے پہلے سوچ لوکہ انتقام کابھی انتقام لیاجائےگا۔
چنانچہ ایساہوتاہےکہ ایک فریق دوسرےفریق کےخلاف انتقام کی کارروائی کرتا ہے۔پھردوسرافریق دوبارہ پہلےفریق سےانتقام لیتاہے۔اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جوصرف اس وقت ختم ہوتاہےجبکہ دونوں اتنےتباہ ہوجائیں کہ وہ مزید انتقام لینے کے قابل نہ رہیں۔ کسی فردیاگرو ہ کےخلاف کوئی قابل شکایت بات پیش آئےتواس کاحل جوابی کارروائی نہیں ہےبلکہ اس کودرگزرکرکےآگےبڑھ جانا ہے۔ درگزر کرنے سے معاملہ پہلے ہی مرحلے میں ختم ہوجاتاہے۔اوراگر درگزر نہ کیاجائےتونفرت اورانتقام اور تشدّد کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انتقام کا رخ دوسرے کے خلاف ہوتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ شکار خود انتقام لینے والا بنتا ہے۔ انتقامی پالیسی کی بھاری قیمت اس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جائے۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی تعمیر میں صرف کرنے کے بجائے انہیں صرف دوسرے کی تخریب میں صرف کرنے لگے۔ دوسرے فریق نے اگر آپ کو پچاس فی صد نقصان پہنچایا تھا تو اپنی انتقامی کارروائی کے نتیجے میں اپنی بقیہ پچاس فی صدطاقت کو بھی ضائع کر دیتے ہیں۔
انتقام کا مطلب یہ ہے کہ قاتلانہ حملہ کے بعد کوئی شخص خود اپنے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتقام ہر حال میں برا ہے اور انتقام نہ لیتے ہوئے معاملہ کو بھلا دینا ہر حال میں اچھا ہے۔ انتقام لینے والا اگر آپ کا دشمن تھا تو انتقام لے کر آپ خود اپنے دشمن بن جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے دشمن آپ بن جائیں ان کو تباہی سے کون بچا سکتا ہے۔
