فطری حفاظت

مائک وولڈرج (Mike Wooldridge) بی بی سی، نئی دہلی کے بیوروچیف ہیں۔ وہ 16جنوری 1998 کو اپنی ٹی وی ٹیم کے ساتھ ہمارے دفتر میں آئے اور اپنی انگریزی نشریات کے لیے راقم الحروف کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔

ان کا ایک سوال یہ تھاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو عام طور پر مسلم مخالف پارٹی سمجھا جاتا ہے۔ ہندستانی پارلیمنٹ کا بارھواں الیکشن جو فروری 1998 میں ہونے والا ہے اگر اس میں بی جے پی جیت جائے اور مرکز میں حکومت بنالے تو کیا آپ اس کو مسلمانوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ کوئی پولیٹکل پارٹی جو الیکشن جیت کر برسر اقتدار آتی ہے وہ صرف چند سال کے لیے آتی ہے اور اس کا اقتدار کسی بھی حال میں مطلق اقتدار نہیں ہوتا۔ ہمارےیہاں ایک باضابطہ دستور ہے۔ ہر حکومت کو اس دستور کے تحت کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس سے آزاد رہ کر۔

انھوں نے کہا کہ ہندستانی دستور میں حکمراں جماعت کو ایمر جنسی نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اسی سے فائدہ اٹھا کر اندرا گاندھی نے 1997ء میں یہاں ایمر جنسی نافذ کر دی تھی، جس کی وجہ سے اندرا گاندھی کو من مانی کا رروائی کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ اسی طرح اگر بی جے پی حکومت پاکر یہاں ایمر جنسی نافذ کر دے تو خود اسی دستور کے مطابق اس کو لامحدود اختیارات حاصل ہو جائیں گے، اور وہ مسلمانوں کے خلاف جو چاہے گی کر سکے گی ۔

میں نے کہا کہ اس قسم کا سنگین واقعہ کبھی قابل اعادہ نہیں ہوتا ۔ آپ ایٹم بم صرف ایک بار گرا سکتے ہیں، بار بار ایٹم بم گرانا ممکن نہیں

میں نے کہا کہ اسی اصول پر یقین کی بنا پر میں نے یہ جرأت کی تھی کہ 4  دسمبر 1992 کو جب اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی تو میں نے یہ کہا کہ اب اس ملک میں کوئی اور مسجد ڈھائی نہیں جائے گی۔ لوگ6 دسمبر 1992 کے حادثہ کو کاما سمجھ رہے تھے ۔ میں نے کہا کہ یہ کامانہیں ہے بلکہ یہ فل اسٹاپ ہے۔

اور آپ جانتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ ڈھانے والے لوگ اپنے لحاظ سے بہت سی اور مسجدوں کی فہرست بنائے ہوئے تھے، مگر فطرت کے قانون نے ان کی فہرست کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا، دوبارہ ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا کہ وہ کسی اور مسجد کے ساتھ  6دسمبر کودہرا سکیں۔

6 دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو شیوسینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ مجھے ان لوگوں پر فخر ہے جنھوں نے بابری مسجد کو ڈھایا ۔ مگر اسی مہینہ کے اخبارات میں بال ٹھاکرے کایہ بیان چھپا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پر نہ مسجد بنائی جائے اور نہ مندر، دونوں فرقوں کو اس سے تنگ مقام پر مسجد اور مندر بنانے کی جگہ دے دی جائے اور جہاں بابری مسجد تھی وہاں ایک قومی یادگار تعمیر کی جائے ۔ اس معاملے میں کانگریس نے مسلمانوں سے یہ کہہ کر معافی مانگی ہے کہ اس وقت اگرچہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، مگر ہم بابری مسجد کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ مندر مسجد کا اشواب اس کے ایجنڈے میں نہیں، وغیرہ۔

اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کسی بڑی برائی کو مسلسل جاری نہیں رکھا جاسکتا۔ کوئی بڑی برائی یا کوئی سنگین جرم جب کیا جاتا ہے تو فوراً ہی اس کے خلاف مانع اسباب اکٹھا ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ اس برائی یا ظلم کی تکرار ممکن نہیں رہتی ۔

اگر کوئی شخص آپ سے کہے کہ میں تمہارے سر پر آسمان گرا دوں گا ۔ تو آپ کو کہنے والے سے لڑنا نہیں چاہیے بلکہ یہ سوچ کر چپ رہنا چاہیے کہ آسمان کو گرانا اس کے بس ہی میں نہیں ۔ اسی طرح کوئی پولیٹیکل پارٹی یا لیڈر اگر آپ کی مخالفت میں بڑے بڑے الفاظ بولے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے یہ سوچیے کہ ایسا ہونا ممکن ہے یا نہیں ۔ اگر وہ ممکن نہ ہو تو آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس دنیا میں کسی کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کو واقعہ بنا سکے۔ یہاں جو چیز واقعہ بنتی ہے وہ حقائق ہیں، نہ کہ کسی کے بولے ہوئے الفاظ ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion