تفسیر بذریعہ تدبر
عام طور پر تفسیر کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں۔ تفسیر ماثور، اور تفسیر بالرائے۔ مگر تفسیر کی ایک اور قسم ہے جس کو تفسیر بذریعہ تدبر کہا جا سکتا ہے۔ احادیث و آثار اور اقوال سلف کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے کی کو شش کرنا، بلاشبہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ مگر قرآن کے عجائب کو مزید دریافت کرنے کے لیے ہر دور میں اس پر غور و تدبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جائز دائرے میں اس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوگا۔ یہاں قرآن سے ایک مثال دی جاتی ہے جس سے یہ معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف کو مصر کے ارضی خزائن پر حاکم مقرر کیا گیا۔ قحط کے زمانے میں ان کے خصوصی انتظام کے تحت لوگوں کو غلہ فراہم کیا جانے لگا۔ اسی زمانے میں غلہ لینے کے لیے ان کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ اور غلہ حاصل کر کے روانہ ہوئے۔ پھر یہ واقعہ ہوا کہ دربار کے کارکنوں نے حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے اونٹ پر لدے ہوئے غلہ سے ایک شاہی سامان بر آمد کیا۔ اس کے بعد بن یامین کو چوری کے الزام میں ماخوذ کر کے حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔
یہاں قرآنی آیتوں کی تفسیر عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو پہچان کر انہیں اپنے پاس روکنا چاہا مگر چونکہ وہ اپنی شخصیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ جب بھائیوں کو غلہ دیا جانے لگا تو ان کے حکم سے ایک شاہی سامان (سقایۃ ) بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا پھر جب وہ لوگ اپناغلہ لے کر جانے لگے تو نعوذ باللہ حضرت یوسف نے یہ کیا کہ قافلے کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی کروائی۔ پھر جب منصوبے کے مطابق، شاہی سقایہ بن یامین کے سامان سے نکل آیا تو انہوں نے بن یامین کو نعوذ باللہ چور قرار دے کر اپنے پاس روک لیا اور بقیہ بھائیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔
یہ تفسیر واضح طور پر ایک پیغمبر کے اخلاق کو داغدار کرتی ہے۔ مگر جب قرآن کی متعلق آیتوں کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ مذکورہ تفسیر کے علاوہ یہاں ایک اور زیادہ صحیح تفسیر موجود ہے۔ اس دوسری تفسیر میں حضرت یوسف مکمل طور پر بری الذمہ قرار پاتے ہیں۔
یہ دوسری تفسیر سورۃ یوسف (رکوع 9 آیت76-70) کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف نے جب ان کا سامان سفر درست کیا تو اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں اپنا سقایہ ( پینے کا پیالہ) رکھ دیا پھر جب بھائیوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا تو درباریوں کو کسی وجہ سے اپنا صواع (ناپنے کا پیمانہ ) دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انہوں نے قافلہ والوں کو پکار کر روکا اور کہا کہ ہم کو شبہ ہے کہ تم نے ہمارا (چاندی کا) صواع چرا لیا ہے۔ چنانچہ قافلہ کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ آخر کار حضرت یوسف کے بھائی بن یامین کے سامان سے وہ بر آمد ہو گیا۔ پھر کنعان کے قانون کے مطابق بن یامین کو پکڑ کر حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یوسف کو اپنا وہ بھائی مل گیا جس کو وہ اپنے پاس روک لینا چاہتے تھے۔
ان آیتوں کے الفاظ پر غور کیجیے تو ایک بہت با معنی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ حقیقت عربی قاعدہ کے مطابق، ضمیر کے فرق میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں جو چیز رکھی وہ سقایہ (یوسف، 12:70) تھا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو عربی قاعدے کے مطابق، مونث ہے مگر دربار کے کارکنوں نے قافلے والوں کی تلاشی کے بعد ان کے سامان میں سے جو چیز بر آمد کی اس کو قرآن میں ضمیر مذکر کے بجائے ضمیر مؤنث (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا) کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ضمیر ’ہ‘ کی بجائے ’ھا‘۔
ضمیر کے اس فرق پر غور کرنے سے معاملے کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں برادرانہ محبت کے تحت زاد راہ کے ساتھ اپنا پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا تھا۔ درباری کارکن اس سے با خبر تھے۔ البتہ اس دوران در بار کی ایک اور زیادہ بڑی چیز، صواع (غلہ ناپنے کا پیمانہ) سامانوں میں دب کر بظاہر گم ہو گیا۔ جلدی میں درباری کارکنوں کا دھیان قافلے والوں کی طرف گیا اور انہوں نے ان پر شبہ کرتے ہوئےانہیں روکا اور ان کے سامان کی تلاشی لی۔ اس تلاشی کے دوران ان کا مطلوب پیمانہ ’’صواع‘‘ تو نہیں ملا البتہ اس دربار کی ایک اور چیز پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) بن یامین کے سامان سے بر آمد ہو گیا۔ چنانچہ انہوں نے بن یامین کو خود برادران یوسف کی شریعت کے مطابق روک لیا۔
یہ سارا معاملہ حضرت یوسف کے کسی حکم کے بغیر درباریوں نے بطور خود کیا۔ اسی لیے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی ، وہ بادشاہ کے قانون کے رو سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے (12:76)۔ یہ تفسیر قرآنی الفاظ کے مطابق بھی ہے اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ عظمت کے مطابق بھی۔
قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ (8:60)۔ یعنی، اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ ہر دوسرے پر بھی جن کو تم نہیں جانتے۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔
موجودہ زمانہ کےایک عرب مفسرقرآن نےاس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اعدادقوت کامقصدتحریر الانسان ہے۔اہل ایمان کوطاقت کی فراہمی کاحکم اس لیے دیاگیاتاکہ وہ ساری دنیا کےانسانوں کوہرقسم کی غلامی سےآزاد کرائیں۔مثلاًکمیونزم،نازی ازم،سیکولرزم اور زائنزم (صیہونیت)،وغیرہ سےنجات دلانا۔
آیت کی تفسیربظاہرایک انقلابی تفسیرمعلوم ہوتی ہے۔مگریقینی طورپروہ تفسیر بالرائے ہے۔ مفسر نے قرآن کے الفاظ پر غور کیے بغیر اپنے ذہن میں موجود خیالات کو آیت کی تفسیر میں شامل کردیا۔آیت کےالفاظ پر غور کیجیےتومعلوم ہوگاکہ اس کےمطابق،اعدادقوت کا مقصد ارہاب عدو ہے یعنی دشمن کو ہیبت زدہ رکھنا تاکہ وہ اہل ایمان کے خلاف جارحیت کا حوصلہ نہ کرسکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آیت میں اعداد قوت کا حکم دفاعی مقصد کے تحت دیا گیا ہے، مگر مذکورہ مفسر نے اس کو اقدامی معنی میں لے لیا۔
