طاقتورکون
ایک حدیث کےمطابق،پیغمبراسلامﷺنےفرمایا:لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر5763)۔ یعنی، طاقت وروہ نہیں ہے جو کُشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ طاقتورصرف وہ ہےجوغصے کے وقت اپنےنفس کوقابومیں رکھے۔
غصے کےوقت غصہ کوروکنا سلف کنٹرول (self control) کی علامت ہے۔ اور سلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ایسےموقع پرسلف کنٹرول آدمی کوغلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اور جس آدمی کےاندرسلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو،وہ غصے کے وقت بپھر اٹھےگا، یہاں تک کہ وہ متشدّدانہ کارروائی کرنےلگےگا۔غصے کاقابومیں رکھنا امن پسند انسان کا طریقہ ہے اور غصے کے وقت بے قابو ہو جانا تشدّد پسند انسان کا طریقہ۔
ایک آدمی کی لڑائی دوسرےآدمی سےہواوروہ اس کولڑائی میں پچھاڑدےتویہ صرف اس بات کاثبوت ہےکہ دوسرےآدمی کےمقابلے میں پہلاآدمی جسمانی اعتبارسےزیادہ طاقتور تھا۔ مگر جسمانی طاقت ایک محدودطاقت ہے۔ اس کےمقابلے میں جس شخص کایہ حال ہو کہ اس کے اندر غصہ بھڑکے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کرلے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل اندازمیں معاملہ کرے،ایساآدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔اس کی یہ روش اس بات کاثبوت ہےکہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشہ جسم کی طاقت سےبہت زیادہ بڑی ہے۔ایساآدمی اپنی دانشمندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہرجنگ جیت سکتا ہے، بغیراس کےکہ اس نےایک انسان کابھی خون بہایاہو۔
