آیتِ فتنہ

حضرت امام حسن بن علی نے41ھ میں ایک صلح نامہ کے ذریعہ خلافت سے دست برداری اختیار کر لی۔ اس وقت سے خلافت بنو امیہ کے خاندان میں چلی گئی۔ تاہم امیرمعاویہ کی وفات (60ھ) کے بعد بار بار خلافت کے دعویدار اٹھتے رہے اور بنو امیہ میں اور ان مدعیان خلافت میں جنگ جاری رہی۔

انہیں میں سے ایک عبداللہ بن زبیر تھے۔ان کا صدر مقام مکہ تھا۔ انہوں نے بنو امیہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ بنو امیہ کے عامل حجاج بن یوسف سے ان کی جنگ ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ 73ھ میں وہ مکہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانہ میں دو آدمی حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ برباد ہو رہے ہیں اور آپ عمر فاروق کے صاحبزادے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ پھر کیا چیز آپ کو روک رہی ہے کہ آپ ان سے جنگ کے لیے نہیں نکلتے۔ عبداللہ بن عمر نے کہاکہ مجھے یہ بات روک رہی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کے خون کو میرے لیے حرام کردیا ہے۔ آدمیوں نے کہا کیا اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ عبداللہ بن عمر نے کہا:ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا۔ اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم چاہتے ہو کہ جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4515)۔

دوسری روایت میں ہے کہ دو آدمی حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اورکہا کہ اے ابو عبدالرحمن، کیا وجہ ہے کہ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال مقیم رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ آپ کو معلوم ہے کہ خدا نے کس قدر زیادہ اس کی اہمیت دلائی ہے۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے ، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، اور پانچ وقت کی نمازیں ، رمضان کے مہینہ کا روزہ رکھنا، اور زکوٰۃ دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ آدمیوں نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن کیا آپ نہیں سنتے جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ عبداللہ ابن عمر نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کیا۔ اس وقت اسلام کم تھا ، پس آدمی اپنے دین کے معاملہ میں فتنہ میں ڈالا جاتا تھا۔ لوگ اس کو قتل کر دیتے یا عذاب دیتے۔ یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہو گئی۔ پھر فتنہ باقی نہ رہا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 4515)۔

خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ مسلمانوں کو سیاسی شکایت ہو گئی۔ وہ مدینہ میں گھس آئے اور آپ کے مکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ حضرت عثمان اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور باغیوں سے کہا کہ تم جو میرا محاصرہ کیے ہوئے ہو اور میرے قتل کے درپے ہو، کیا اپنے اس فعل کے حق میں تمہارے پاس قرآن کی کوئی دلیل ہے۔ ایک باغی آگے بڑھا اور اس نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے قرآن سے جہاد اور قتال والی آیتیں پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔

باغیوں کے نزدیک اپنے عمل کے لیے ان آیتوں کا حوالہ درست تھا۔ کیوں کہ اپنے خیال میں وہ ایک بگڑی ہوئی حکومت کے خلاف جہاد کر رہے تھے اور جہاد کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ مگر حضرت عثمان نے ان کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آیتیں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حق میں نازل نہیں ہوئیں۔ یہ میرے اور میرے ساتھیوں (صحابہ) کے حق میں اتری ہیں۔

حضرت عثمان کا جن لوگوں نے محاصرہ کر رکھا تھا وہ سب مسلمان تھے۔ ان کے پاس اپنے محاصرہ کو برحق ثابت کرنے کے لیے قرآن کی آیتیں بھی تھیں۔ مگر صحابہ نے اس معاملہ میں ان سے اتفاق نہیں کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ انہوں نے قرآنی آیات کی تفسیر اور تشریح میں غلطی کی (‌أَخْطَأُوا ‌فِي ‌التَّأْوِيلِ)یعنی جن آیتوں کا تعلق کافروں اور مشرکوں سے ہے۔ ان کو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے (منهاج السنة النبوية، جلد6، صفحہ 89)۔

’’خوارج‘‘ سب کے سب مومن و مسلم تھے۔ وہ دیندار اور عبادت گزار بھی تھے۔ وہ ہر بات میں قرآن کی آیتیں پیش کرتے تھے۔ مگر خلیفہ چہارم حضرت علی کے خلاف ان کی جنگ کو امت نے کبھی صحیح نہیں قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے خوارج کی لڑائیوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی غلطی یہ ہے کہ قرآن کی وہ آیتیں جو کافروں اور مشرکوں سے جنگ کے بارے میں اتری ہیں ان کو انہوں نے مسلمانوں کے اوپر منطبق کر دیا ہے۔ وہ قرآن کی تحریف کر رہے، نہ کہ قرآن کی تفسیر۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کی انقلابی اسلامی جماعتیں جو اپنے ملکوں میں مسلم حکمرانوں سے اصلاح سیاست کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔ اس قسم کی لڑائیوںکا جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تمام مفکرین اسلام درحقیقت مجرمین اسلام ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی باہمی جنگوں کو جہاد فی سبیل اللہ ثابت کرنے کے لیے اپنی ذہانت صرف کر رہے ہیں۔ اس قسم کے اعمال کے لیے قرآن کی آیتیں پیش کرنا بے عملی پر سرکشی کا اضافہ کرنا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion