کتنا فرق
ہمارے اخبارات و رسائل میں جو موضوعات بہت زیادہ رائج ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی شخصیت اپنی عمر پوری کر کے اگلی دنیا کی طرف جاتی ہے تو بڑے جذباتی قسم کے مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔
روشن چراغ بجھ گیا، آفتاب علم غروب ہو گیا، ملت کا چاند دنیا سے چلا گیا، وغیرہ۔ اس قسم کی سرخیاں مرنے والوں کے بعد ہماری صحافت میں اتنی بار شائع ہو چکی ہیں کہ اگر واقعتاً یہ صحیح ہوں تو اب تک اتنا زیادہ اندھیرا چھاجانا چاہیے کہ ان سرخیوں کو پڑھنا بھی کسی آنکھ والے کے لیے ممکن نہ رہے۔
’’اک چراغ اور بجھا اور بڑھا سناٹا‘‘ یہ سرخی یا اس کے ہم معنیٰ سرخی ہمارے اخبارات و رسائل میں عام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر مرنے والا جب صرف ہماری ویرانی اور ہماری تاریکی میں اضافہ کررہاہے تو اس کے بعد عقل کس کے پاس ہو گی اور روشنی کہاں باقی رہے گی۔ اور جب روشنی اورعقل رخصت ہو جائے تو کون دیکھنے والا ہو گا جو دیکھے اور کون سمجھنے والا ہو گا جو سمجھے۔
یہ دور زوال کی بات ہے۔ مگر جب ملّت زندہ تھی تو کیا حال تھا، اس کی ایک مثال لیجیے۔ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کاانتقال 86ھ میں ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے لڑ کے ولید نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس وقت اس کے دوسرے لڑ کے ہشام کی زبان سے یہ شعر نکلا:
فَمَا كَانَ قَيْسٌ هَلَكَهُ هَلَكٌ وَاحِدٌ وَلَكِنَّهُ بُنْيَانٌ قَوْمٍ تَهَدَّمَ مَا
قیس کی موت تنہا ایک شخص کی موت نہیں بلکہ اس کے مرنے سے قوم کی بنیاد منہدم ہو گئی یہ سن کر ولید نے کہا، چپ ہو! تو شیطان کی زبان سے بول رہاہے۔ تو نے اس طرح کیوں نہ کہا جس طرح ایک اور شاعر نے کہا ہے:
إِذَا مَاتَ مَنَاسِيدُ قَامَ سَيِّدٌ قُولُ لِمَا قَالَ الكِرَامُ فَعُولٌ
جب ہم میں سے کوئی سردار مرتا ہے تو دوسرا سردار کھڑاہو جاتاہے اور وہ وہی کرتا اورکہتا ہے جو شریف لوگ کہتے اور کرتے ہیں (أنساب الأشراف للبلاذری، جلد7، صفحہ270)۔
دور زوال میں جب کوئی شخص مرتا ہے تووہ دوسروں کو صرف مرثیہ کاسبق دیتا ہے۔دور عروج میں جب کوئی مرتا ہے تو دوسروں کو حوصلہ دیکر نئی زندگی عطا کردیتا ہے۔
