ایک سفر
)مدرسہ مصباح العلوم آسنسول، مدرسہ باب العلوم، کلکتہ(
مئی 1985 کے چند دن مغربی بنگال میں گزرے۔ 2 مئی کی صبح کو میں آسنسول پہنچا۔ 4مئی کی صبح کو کلکتہ گیا اور اسی دن شام کو دہلی واپس آیا۔
آسنسول مغربی بنگال کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 40 فی صد ہے۔ یہاں ان کے دو عربی مدرسے اور دو اسکول ہیں۔ کالج کے قیام کی کوشش ہو رہی ہے تعلیم میں پیچھے ہونے کے باوجود مسلمان عام طور پر خوش حال ہیں۔ مسلم اور غیرمسلم کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ یہاں وہ فرقہ وارانہ تعصب نہیں پایا جاتا جو یوپی جیسے علاقوں کی خصوصیت ہے۔ ہندستان ایک ملک نہیں وہ کئی مختلف ملکوں کا مجموعہ ہے۔
آسنسول میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مسلمانوں کا نوجوان طبقہ تعمیری کاموں کی طرف متوجہ ہے۔ مسجد میں امام اور مؤذن کے معیار کو بہتر بنانا، مدرسے کوترقی دینا، لائبریری قائم کرنا، قوم کے مختلف حلقوں کو جوڑنا، نوجوان نسل کو دینی اور تعمیری رخ پرڈالنے کی کوشش کرنا۔ یہ مناظر یہاں کے قیام کے دوران واضح طور پر نظر آئے۔
مجھے یہاں مدرسہ مصباح العلوم کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے بلایا گیا تھا۔ مدرسہ کے سکریٹری جناب سمیع الدین صاحب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ مدرسہ 1912 میں قائم ہوا۔ اس میں مقامی طلبہ کے علاوہ بیرونی طلبہ تقریباً ایک سوزیر تعلیم ہیں۔ اس کا طریقہ تعلیم درس نظامیہ کے نصاب پر مبنی ہے۔ فی الحال اس مدرسہ میں عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم سے لے کر مشکوٰہ تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حفظ اور قرآت کی تعلیم کا بھی معقول انتظام ہے۔ اس کے تحت بارہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ مدرسہ میں ایک دار الافتاء بھی ہے۔ مدرسہ کا پرائمری سکشن حکومت بنگال سے منظور شدہ ہے۔ اس سیکشن میں طلبہ کی تعداد 250 ہے۔ شہر کے مختلف محلوں میں مدرسہ کی پانچ شاخیں قائم ہیں جن میں طلبہ کی تعداد عمومی طور پر800ہے۔
مدرسہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جو وسیع ڈائس تیار کیا گیا تھا اس میں ایک پرکشش چیز یہ دکھائی دی کہ ڈائس کے دونوں طرف الرسالہ کے صفحہ اول کے دو اقتباسات جلی حرفوں میں لکھ کر لگائےگئے تھے۔ یہ دونوں اقتباسات حسبِ ذیل تھے :
بلند مقام ہمیشہ اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے، نہ کہ نعرے اور جھنڈے کو بلند کرنے سے۔ (الرساله، اگست 1984)
دوسروں سے نہ لڑنے کے لیے اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ (الرساله، اکتو بر 1983)
اس قسم کا کام یہاں نوجوانوں کی ایک ٹیم کر رہی ہے جو حال میں ابھری ہے۔ ایک صاحب نے بتایاکہ یہاں کے نوجوانوں میں جو تعمیری رجحان ابھرا ہے، اس میں الرسالہ کا خاص دخل ہے۔ یہاں الرسالہ کے پڑھنے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اکثر مقامات پر دینی پرچوں میں اب الرسالہ ہی سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ الرسالہ اب خدا کے فضل سے دور حاضر میں مسلمانوں کی حقیقی بیداری کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
آسنسول میں قیام کے دوران بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس طرح کی ملاقاتوں میں اکثر لوگ مسائل عالم پر گفتگوکرتے ہیں۔ مگرمیری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ آدمی کے شخصی تجربات کو جانوں۔ کیونکہ شخصی تجربات میں حقیقی سبق ہوتا ہے جب کہ مسائل عالم کی بحثیں الفاظ کی بے فائدہ نمائش کے سوا اورکچھ نہیں۔
آسنسول کی ایک تقریر میں میں نے کہا کہ اس ملک کے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لیڈر انہیں رزرویشن کا سبق دیتے رہے۔ مگر یہ مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں اہلیت کا ثبوت دے کر کسی کو جگہ ملتی ہے۔ رزرویشن کی باتیں کرنا محض ایک قیادتی فریب ہے۔ کیوں کہ اس طرح کچھ لوگوں کو سستی قیادت تو مل سکتی ہے، مگر اس طرح اصل مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
4 مئی کی صبح کو آسنسول سے کلکتہ گیا۔ کم وقت کی وجہ سے وہاں زیادہ پروگرام نہ رکھے جاسکے۔ تاہم اسلامیہ ہال میں ’’اسلام اور عصر حاضر‘‘ کے موضوع پر ایک خطاب ہوا۔ اخبار مشرق کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی اور مدرسہ باب العلوم کا معائنہ کیا، وغیرہ۔
مدرسہ باب العلوم تقریباً دس سال سے قائم ہے۔ مدرسہ کے بانی قاری محمد اسمعیل ظفر صاحب کے والد تھے۔ وہ ایک درویش صفت بزرگ تھے۔ وہ اینٹ کا تکیہ لگا کر سوتے تھے۔ کھانا اور کپڑا بے حد معمولی استعمال کرتے تھے۔ ان کے صاحبزادہ نے ایم اے کیا تھا۔ اس کے بعد وہ کسی جدید ادارہ میں کام کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کے والد نے اصرار کیا کہ تم کو مدرسہ والا کام کرنا ہے۔ سعادت مند صاحبزادہ نے والد کی بات کے آگے سپر ڈال دیا اور مدرسہ کے کام میں لگ گئے۔
مدرسہ باب العلوم ایک غیر معروف مدرسہ ہے۔ کلکتہ کے موجودہ سفر سے پہلے مجھے مدرسہ کے بارے میں مطلق کوئی واقفیت نہ تھی اور نہ میں اس مدرسہ کے ذمہ داروں کے نام سے واقف تھا۔ مگر معائنہ کے دوران معلوم ہوا کہ ابتدائی سطح پر یہ ایک معیاری دینی مدرسہ ہے۔ ان کے پاس زیادہ بڑی جگہ نہیں۔ مگر عالم یہ ہے کہ اس وقت سات سو طلبہ کی درخواست داخلہ ’’ویٹنگ لسٹ‘‘ پر ہے۔ مگر جگہ کی کمی کےباعث وہ ان کو نہیں لے سکتے۔
اس تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے تاریخ اسلام کے ایک سوال کا جواب پالیا ہے۔ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں اس بات کی تفصیل نہیں ملتی کہ تاریخ اسلام کے بعض بہت بڑے بڑے واقعات کی طرح ظہور میں آئے مثلاً دورِ اول میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں اسلام کی اشاعت تاتاریوں کا مسلمان ہونا۔ کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ واقعات کن لوگوں کے ذریعہ اور کس طرح وقوع میں آئے۔
ان واقعات کے غیر مذکور ہونے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ غیرمشہور لوگوں کے ذریعہ انجام پائے۔ یہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ سیاسی انداز سے کام کرتے ہیں یا جن کا حکمرانوں سے ٹکراؤ پیش آتا ہے وہ بہت جلد شہرت عام حاصل کر لیتے ہیں۔ اشاعت اسلام کے میدان میں کام کرنے والے یہ لوگ چونکہ سیاست و حکومت سے الگ تھے اس لیے وہ غیر مشہور رہ گئے اور اسی طرح ان کے کام کی تفصیلات بھی۔
اکثر زیادہ بڑا کام کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں، جو بظاہر دیکھنے والوں کو بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔
آسنسول اور کلکتہ میں جو گفتگوئیں اور تقریریں ہوئیں۔ ان کا موضوع مشترک طور پر یہ تھا کہ دور جدید میں ہم کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کا مقابلہ نہ روایتی وعظ سے کیا جا سکتا ہے اور نہ پر جوش خطابت سے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک طرف اسلام کو اس کی اصل حیثیت میں جانیں اور دوسری طرف عصر حاضر کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں۔ دونوں کو بخوبی طور پر جاننے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ دور جدیدمیں اسلام کو اور مسلمانوں کو اٹھا نے کی موثر جدو جہد کی جاسکے۔ 4 مئی 1985 کی شام کو انڈین ائیر لا ئنزکی فلائٹ کے ذریعے کلکتہ سے دہلی واپس پہنچ گیا۔(الرسالہ، ستمبر 1985)
