مسلّمہ دلیل

شاہ ولی اللہ دہلوی (1703-1762) نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’مصطفوی شریعت کے لیے وقت آ گیا ہے کہ بر ہان اور دلیل کے پیراہنوں میں ملبوس کرکے اسے میدان میں لایا جائے‘‘۔ شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ حقیقتاً اسی موضوع پر لکھی گئی ہے، مگر وہ روایتیاسلوب میں ہے۔

قدیم زمانہ روایتی زمانہ تھا۔ قدیم زمانہ میں روایتی استدلال کافی ہوتا تھا، مگر آج کا انسان روایتی استدلال کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ عقلی اور سائنسی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا تھا۔

مثال کے طور پر ہندستان کے مسلم علما سب کے سب یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں ۔ مگر اس کی مخالفت کے لیے ان کے پاس کہنے کی جو بات ہے وہ صرف یہ کہ یہ ہماری شریعت میں مداخلت ہے اور ہم شرعی مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں جدید طبقہ کہتا ہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں ۔ اگر آپ یکساں سول کوڈ کے خلاف ہیں تو آپ کو عقلی اور سائنسی دلیل سے اسے ردّ کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ کی بات نہیں مانی جائے گی۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو مخاطب کے مسلّمہ دلائل سے ثابت کریں ۔) دیکھیں:الرسالہ ستمبر 1995) (ڈائری، 23 جون 1990(

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion