اضافی خصوصیت نہ کہ فضیلت

قرآن کی آیت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ( 4:34)۔یعنی،مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں، اس وجہ سے کہ اﷲنے ایک کو ایک پرفضیلت دی۔

یہاں فضیلت سے مراد خصوصیت ہے۔ گھر کے نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کاایک سربراہ اور نگراں ہو۔ یہ سربراہی یا نگرانی اسی فردخاندان کو سونپي جائے گی جونسبتا ً اس کی زیادہ اہلیت رکھتا ہو، یہ اہلیت قدرتی تخلیق کے اعتبار سے مرد کے اندر زیادہ ہے۔ اس آیت میں  کلّی فضیلت کا ذکر نہیں ہے۔ یہاں صرف اس فضیلت کا ذکر ہے جو مرد کے لیے یہ استحقاق ثابت کرتی ہے کہ اس کوگھر کا قوام بنایا جائے۔

’’ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ‘‘ عربی کا ایک اسلوب ہے جو قرآن میں  مختلف مقامات پر استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے مختلف قسم کی فصلیں اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں  ارشاد ہوا ہے:

وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ (13:4)۔ یعنی، اورزمین میں  پاس پاس مختلف قطعے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھتیی ہے اور کھجوریں ہیں۔ ان میں  سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اورہم بڑھادیتے ہیں ان میں  ایک کو ایک سے میووں میں ۔

تما م مفسرین نے یہاں ’’ تفضیل‘‘ سے مراد فرق اور تنوع لیا ہے، نہ یہ کہ پھلوں میں  سے کسی ایک پھل کو دوسرے تمام پھلوں کے اوپر مطلق برتری حاصل ہے۔ یعنی ہر پھل میں  ایک منفرد خصوصیت ہے جو دوسرے میں  نہیں، ہر پھل میں  رنگ اور مزہ کے اعتبار سے ایک مزید پہلو ہے جو دوسرے پھل سے مختلف ہے۔ عورت اور مرد میں  بھی اسی طرح فرق رکھا گیا ہے۔ ایک صنف کے اندر ایک اضافی خصوصیت ہے تو دوسری صنف کے اندر دوسری اضافی خصوصیت۔

اسی لیے فرمایاگیاہے کہ جن چیزوں میں  اﷲ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ان میں  ہوس نہ کرو۔ مردوں کو ان کی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کو ان کی کمائی کا حصہ:وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ) 4:32) ۔یعنی،ہر ایک کو کوئی ایسی خصوصیت دی گئی ہے جو دوسرے کو نہیں دی گئی ہے۔ اس لیے دوسرے کو جوکچھ ملاہے اس پر رشک و حسد نہ کرو بلکہ تم کو جو کچھ ملاہے اس کو استعمال کرکے اس کے ذریعہ سے تعمیر حیات میں  اپنا حصہ اداکرو۔

یہ صحیح ہے کہ جسمانی اعتبار سے عورت کے اندر بعض کمزوریاں ہیں۔ مگر جسمانی کمزوری کا مطلب غیرافضل ہونا نہیں۔ آنکھ ہمارے جسم کا نہایت کمزورحصہ ہے، اس کے مقابلہ میں  ناخن زیادہ طاقتور ہے۔ مگر اس کایہ مطلب نہیں کہ ناخن افضل ہے اور آنکھ غیر افضل۔

جس طرح دوپھلوں میں  دوعلاحدہ علاحدہ صفت ہوتی ہے اور دونوں میں  سے کوئی افضل یا غیرافضل نہیں ہوتا۔ یہی معاملہ عورت اور مرد کا بھی ہے۔ عورت اور مرد دونوں کے اندر کوئی مزید صفت ہے جوایک کے اندر ہے اور دوسرے کے اندر نہیں ہے۔ہر ایک کوکسی نہ کسی اعتبار سے فضیلت (اضافی خصوصیت ) حاصل ہے۔ دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اضافی خصوصیت کے اعتبار سے زندگی کے نظام میں  اپنا مقام متعین کریں۔ ہر صنف کو اﷲ تعالیٰ نے کسی کارخاص کے لیے موزوں بنایا ہے اور اس کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی کار خاص میں  لگادے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion