انصاف کا طریقہ

مکہ کے ابتدائی زمانہ میں جب قریش کی زیادتیاں بہت بڑھ گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ مکہ کو چھوڑ کر حبش چلے جاؤ۔ حبش میں ایک بادشاہ ہے جس کے یہاں کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ تم لوگ اس کے ملک میں چلے جاؤ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دے:‌إِنَّ ‌بِأَرْضِ ‌الْحَبَشَةِ ‌مَلِكًا لَا يُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَهُ فَالْحَقُوا بِبِلَادِهِ حَتَّى يَجْعَلَ اللهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِيهِ (دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد2، صفحہ 301)۔

چنانچہ صحابہ ایک سو سے زیادہ تعداد میں اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ قریش مکہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے مشورہ کر کے اپنے دو آدمیوں، عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو حبش روانہ کیا۔ وہاں انہوں نے بادشاہ کے درباریوں کو تحفے دے کر اس پر راضی کر لیا کہ بادشاہ کے یہاں وہ لوگ ان کی سفارش کریں گے۔ اس کے بعد مکہ کا وفد حبش کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں داخل ہوا۔ انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ آبائی دین چھوڑ کر آپ کے ملک میں آ گئے ہیں۔ اب ان کے خاندان اور قبیلہ کے لوگوں نے ہم کو یہاں بھیجا ہے کہ ہم انہیں ان کے گھروں کی طرف واپس لے جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیں اور ان کو ہمارے سپرد کر دیں۔ تمام درباریوں نے اس مطالبہ کی تائید کی۔

مکہ کا وفد یہ چاہتا تھا کہ صرف ان کے کہنے پر بادشاہ مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دے اور خود مسلمانوں کو بلا کر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ کرے۔ جب انہوں نے بادشاہ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو بادشاہ بگڑ گیا۔ اس نے کہا خدا کی قسم نہیں، میں ہرگز ان کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا جب تک ایسا نہ ہو کہ میں ان کو اپنے یہاں بلاؤں اور ان سے بات کروں اور دیکھوں کہ ان کا معاملہ کیا ہے۔

موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ نجاشی کے امراء نے مکہ کے وفد کے مطالبہ کی تائید کی اور بادشاہ کو مشورہ دیاکہ وہ مسلمانوں کو فوراً ان کے حوالے کر دے۔ مگر نجاشی نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں۔ میں اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک میں ان کی بات سن نہ لوں اور یہ جان لوں کہ وہ لوگ کس چیز پر ہیں:وَذَكَرَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَنَّ أُمَرَاءَهُ أَشَارُوا عَلَيْهِ بِأَنْ يَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:‌لَا ‌وَاللهِ ‌حَتَّى ‌أَسْمَعَ ‌كَلَامَهُمْ وَأَعْلَمَ عَلَى أَيِّ شئ هُمْ عَلَيْهِ (السيرة النبوية من البداية والنهاية، جلد2، صفحہ 18)۔

اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ مکہ کے جو مسلمان ہمارے ملک میں آئے ہیں، ان کو میرے دربار میں حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔ وہ لوگ دربار میں داخل ہوئے تو وہاں کے عام آداب کے خلاف انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔ نجاشی ایک عیسائی بادشاہ تھا۔ اپنے سابقہ عقیدہ کے مطابق ، وہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتا تھا۔ مگر گفتگو کے دوران جب حضرت عیسیٰ کا ذکر ہوا تو صحابہ کے نمائندہ جعفر بن ابی طالب نے صاف کہہ دیا کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے، وہ خدا کے بیٹے نہ تھے، وغیرہ ۔

نجاشی نے پوری بات معلوم کرنے کے بعد مکہ کے وفد کے ہدیہ اور تحفہ کو واپس کردیا۔ اس نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے ملک کو لوٹ جاؤ ، میں ان مسلمانوں کو ہرگز تمہارے سپرد کرنے والا نہیں۔ وہ میرے ملک میں جب تک چاہیں گے رہیں گے (سیرت ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 22)۔

یہی انصاف کا صحیح طریقہ ہے۔ انصاف یک طرفہ کارروائی کانام نہیں۔ انصاف دوطرفہ تحقیق کے بعد منصفانہ فیصلہ دینے کا نام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست تصدیق کے مطابق ، نجاشی کا عمل بلاشبہ انصاف کا معیاری نمونہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے آئے جو دو فریقوں سے تعلق رکھتا ہو تو ایسے موقع پر ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ کر دینا سراسر ظلم ہے۔ ایسا کرنا کسی بھی شخص کے لیے درست نہیں ، خواہ وہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہو۔

شاہ نجاشی نے بعد کو اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لحاظ سے نجاشی کا نمونہ ایک عادل اور مسلم بادشاہ کا نمونہ ہے۔ نجاشی اس معاملہ میں اہلِ مکہ کے تحفوں اور نذرانوں سے متاثر ہوا، نہ اس نے اپنے مصاحبوں اور قریبی لوگوں کے مشورہ اور سفارش کو مانا۔ حتٰی کہ شاہ نجاشی نے اس کی پروا بھی نہیں کی کہ مسلمانوں نے خود اس کی بھی وہ تعظیم و تکریم نہیں کی جس کا وہ عادی تھا۔ اور اس طرح گویا وہ برسر دربار اس کی توہین کے مرتکب ہوئے۔ مزید یہ کہ انہوں نے بادشاہ اور ساری قوم کے مذہبی عقائد کی تردید کی اور اس کو غلط بتایا۔

ان سب ناموافق پہلوؤں کے باوجود نجاشی نے کسی بات کی کوئی پروا نہیں کی۔ اس نے معاملہ کے صرف عدل و انصاف کے پہلو کو دیکھا، دوسرے تمام ذاتی یا غیر ذاتی پہلوؤں کو اس نے یکسر نظرانداز کر دیا۔ اس نے دونوں فریقوں کی بات سن کر معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی۔ اور پھر جو انصاف کا تقاضا تھا، اس کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دیا۔

یہ واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شاہ نجاشی کے اندر جوہر انسانیت پوری طرح موجود تھا۔ خدا نے جس فطرت پر اس کو پیدا کیا تھا، اس فطرت کو اس نے اپنی اصل حالت پر باقی رکھا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ حق جب اس کے سامنے آیا تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگی۔ اگرچہ بظاہر وہ اس کے تصورات کے خلاف تھا، مگر اس نے کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اس کی صداقت کا اعتراف کیا۔ وہ فوراً اس کے آگے جھک گیا۔

اپنی ان خصوصیات کی بنا پر وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر کرے۔ اس کو ایمان کی توفیق دے کر اس کو آخرت کی ابدی نعمتوں کا مستحق بنائے۔ چنانچہ روایات سے ثابت ہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کیں۔

سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی عدل کے مطابق فیصلہ کرے، خواہ اس کے لیے اس کے اوپر کوئی دباؤ نہ ہو، خواہ عادلانہ فیصلہ کرنا اس کے نفس اور اس کے مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو۔ یہی وہ بلند روحیں ہیں جن کو قیامت میں عرش خداوندی کے سایہ میں جگہ دی جائے گی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion