اتحادکاراز

کسی گروہ کےدرمیان اتحادکیسےقائم ہو۔عام طورپریہ کہاجاتاہےکہ اختلاف کو مٹاؤ تاکہ باہمی اتحاد قائم ہو۔ اس نظریہ کے پیچھے جو سوچ ہے وہ یہ ہے کہ جب اختلاف نہ ہوگا تو اپنے آپ اتحادقائم ہوجائےگا۔اس سوچ کےمطابق،اختلاف ہےتو اتحادنہیں، اور جہاں اتحاد ہےوہاں اختلاف نہیں۔یہ سوچ سراسربےبنیادہے۔اس طرح کے فارمولے کے ذریعہ دنیا میں کبھی اتحادقائم ہونےوالانہیں۔اختلاف ایک فطری چیزہے۔وہ ہرانسان کی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ایسی حالت میں اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس مقصدکےلیے صحیح اورقابل عمل فارمولایہ ہےکہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحادہے، نہ کہ اختلاف کےبغیرمتحدہونےکا۔کیوں کہ موجودہ دنیامیں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کےاختلافات کواس طرح بلڈوزکردیاجائےکہ ان کاوجودہی باقی نہ رہے۔

موجودہ دنیامیں اصلاح کاحقیقی فارمولاصرف وہ ہےجوانسانی فطرت کےمطابق ہو۔ جو فارمولا فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ قابل عمل بھی نہیں۔ اور جو چیز قابل عمل نہیں وہ مفید بھی نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion