اتحادکاراز
کسی گروہ کےدرمیان اتحادکیسےقائم ہو۔عام طورپریہ کہاجاتاہےکہ اختلاف کو مٹاؤ تاکہ باہمی اتحاد قائم ہو۔ اس نظریہ کے پیچھے جو سوچ ہے وہ یہ ہے کہ جب اختلاف نہ ہوگا تو اپنے آپ اتحادقائم ہوجائےگا۔اس سوچ کےمطابق،اختلاف ہےتو اتحادنہیں، اور جہاں اتحاد ہےوہاں اختلاف نہیں۔یہ سوچ سراسربےبنیادہے۔اس طرح کے فارمولے کے ذریعہ دنیا میں کبھی اتحادقائم ہونےوالانہیں۔اختلاف ایک فطری چیزہے۔وہ ہرانسان کی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ایسی حالت میں اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس مقصدکےلیے صحیح اورقابل عمل فارمولایہ ہےکہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحادہے، نہ کہ اختلاف کےبغیرمتحدہونےکا۔کیوں کہ موجودہ دنیامیں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کےاختلافات کواس طرح بلڈوزکردیاجائےکہ ان کاوجودہی باقی نہ رہے۔
موجودہ دنیامیں اصلاح کاحقیقی فارمولاصرف وہ ہےجوانسانی فطرت کےمطابق ہو۔ جو فارمولا فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ قابل عمل بھی نہیں۔ اور جو چیز قابل عمل نہیں وہ مفید بھی نہیں۔
