اچھی زندگی
متوکل علی اللہ(207-247ھ)ایک عباسی خلیفہ تھا۔ فتح بن خاقان کہتے ہیں کہ ایک روز میں خلیفہ متوکل کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہ سر نیچا کیے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے کہا: امیر المومنین، آپ کچھ فکر مند معلوم ہوتے ہیں۔ حالانکہ آپ وہ شخص ہیں جس کو روئے زمین پر سب سے زیادہ آسائش کے سامان حاصل ہیں۔ خلیفہ متوکل نے میری بات سن کر اپنا سر اٹھایا اور کہا:
’’اے فتح، مجھ سے زیادہ اچھی زندگی اس شخص کی ہے جس کے پاس ایک کشادہ مکان ہو، نیک بیوی ہو، بقدر ضرورت روزی کا انتظام ہو، نہ ہم اس کو جانتے ہوں کہ اس کو تکلیف دیں اور نہ وہ ہمارا محتاج ہو کہ ہم اس کو رسوا کریں‘‘ (تاریخ الخلفاء، صفحہ241)۔
’’اچھی زندگی‘‘ اس کانام نہیں کہ آدمی کے پاس زندگی کے سازوسامان کی کثرت ہو۔ اچھی زندگی کا راز قناعت ہے۔ قناعت کی دولت اسے ملتی ہے جو بقدر ضرورت چیزوں پر راضی ہو جائے اور شہرت و عزت سے بے نیاز ہو کر جینا جانتا ہو۔
کسی کو بقدر ضرورت روزی حاصل ہو تو اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ بقدر ضرورت روزی پر مطمئن نہ ہونا صرف حرص کی بنا پر ہوتا ہے اور حریص آدمی کے لیے کبھی اطمینان نہیں۔ کیوں کہ بقدر ضرورت کی تو حد ہے مگر حرص کی کوئی حد نہیں۔
بیوی اس لیے ہے کہ وہ زندگی کی رفیق بنے اور آدمی کے لیے گھریلو سکون کا ذریعہ ہو۔ مگر یہ فائدہ صرف نیک اور صالح بیوی سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسری تمام خصوصیات جو آدمی ایک عورت میں تلاش کرتا ہے وہ زوال پذیر بھی ہیں اور نئے نئے مسائل پیدا کرنے والی بھی۔
کسی کے پاس کشادہ مکان ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو خود اپنی ا یک دنیا حاصل ہے جہاں وہ اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنا کر اس کے اندر رہ سکتا ہے۔ دانش مند آدمی کے لیے کشادہ مکان گویا طوفان نوح کے درمیان ایک کشتی نوح ہے۔
گم نامی آدمی کے لیے سب سے بڑی عافیت ہے۔ کیوں کہ جو شخص نام حاصل کر لے اس کو حاسدین کے حسد سے بچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کو خدا نے دوسروں کی محتاجی سے بچایا ہو اس سے بڑا خوش قسمت اور کوئی نہیں۔ کیوں کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ عین اس مقام پر آدمی کو ذلیل کر دیتے ہیں جہاں وہ حاجت مند بن کر ان کے سامنے آیا ہو۔
