میدانِ عمل سے محرومی

مرد ہو یا عورت ہر ایک اپنے عمل کے لحاظ سے قیمت پاتا ہے۔ عورت کو مرد کے مساوی قرار دے کر جب گھر سے باہر لایا گیا تو اس کی قیمت اس میں  تھی کہ وہ ان تمام شعبو ں کو سنبھال لے جن کو مرد روایتی طور پر سنبھالے ہوئے تھا۔ یعنی وہ پا ئلٹ، ڈرائیور، انجینئر ، پروفیسر ، ایڈمنسٹر یٹر، پولیس آفیسر ، فوجی کمانڈر وغیرہ وغیرہ تمام حیثیتوں میں  بالکل مرد کی طرح کام کرنے لگے۔ مگر حیاتیاتی اعتبار سے عورت کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔وہ ان شعبوں کو اس طر ح سنبھال نہیں سکتی جس طرح مرد ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔

عورت جب مردانہ شعبوں کو سنبھال نہ سکی تو اب سوال یہ تھا کہ وہ کیا کرے۔ چنا نچہ وہ ان شعبوں میں  جمع ہونے لگی جن میں  وہ اپنی نسوانیت کے اعتبار سے قیمت پا سکتی تھی، نہ کہ تمدنی کارکر دگی کے اعتبار سے۔ مثلاً فلم ، ٹیلی ویژن ، تفریحی مجلس، وہ اشتہاری صنعتیں جو عورت کی نسوانیت کو استعمال کرتی ہیں۔ مگر یہا ں عورت کی دوسری کمزوری اس کی راہ میں  حائل ہوگئی۔ ان شعبوں میں  جوان عورت کی قیمت تھی اور عورت کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ ہمیشہ جوان رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت باہر نکل کر ایک قسم کی ادھوری شخصیت بن گئی۔ وہ صرف جوانی کے چند سالوں تک اپنے کو باقیمت ثابت کر سکی۔ جوانی کی مدت ختم ہونے کے بعد باہر کی زندگی میں  اس کی کوئی قیمت نہیں رہی۔

مغربی ملکوں میں  آزادی ِنسواں کی تحریک نے پردہ کو ختم کردیا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان کوئی حد بندی باقی نہ رہی۔ تمام عورتیں سڑکوں اور بازاروں میں  نکل آئیں۔ اب جن عورتوں میں  نسوانی کشش نسبتاً زیادہ ہو وہ فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آجاتی ہیں۔ وہ تیزی سے لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتی ہیں۔ مگر یہ مقبولیت اس قیمت پر حاصل ہوتی ہے کہ وہ خاندانی زندگی سے دور ہو جاتی ہیں۔ وہ شادی کو بندھن سمجھ کر اس سے بے رغبت ہو جاتی ہیں۔ وہ گھر بنا کر اس میں  رہنے کے بجائے محفل کی رونق بننا زیادہ پسند کرتی ہیں۔

مگر یہ پُررونق لمحات بے حدوقتی ہوتے ہیں۔ جوانی کی خاص عمرتک ان عورتوں کو استعمال کیا جاتا ہے ، اس کے بعد انھیں نارنگی کے چھلکے کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔ مقبول شخصیت با لآخر خود اپنے ماحول میں  غیر مقبول شخصیت بن کر رہ جاتی ہے۔

 مغربی تہذیب میں  صرف’’ جوان عورت ‘‘ کے لیے جگہ ہے۔ ’’بوڑھی عورت ‘‘ کے لیے مغربی تہذیب میں  کو ئی جگہ نہیں۔ مغربی تہذیب میں  ایک عورت اپنی نسوانی کشش کی بنیاد پر جگہ حاصل کرتی ہے۔ بڑھاپے میں  یہ نسوانی کشش ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے مغربی عورت بوڑھی ہونے کے بعد اپنا مقام بھی کھودیتی ہے۔ ’’جو شخص ذمہ داری قبول نہ کرے اس کو حقوق میں  بھی حصّہ نہیں ملتا۔‘‘ یہ مقولہ اپنی بدترین شکل میں  مغربی عورت کے حق میں  صادق آیا ہے۔

خاندان سے وابستہ ہوکر جو زندگی بنتی ہے۔ اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ خاندان میں  ایک عورت ’’بیوی‘‘ کی حیثیت سے اپنی زند گی شروع کرتی ہے۔ یہاں اس کو اپنے عمل کا بھر پور میدان مل جاتا ہے۔ اس کا گھر ایک پوری مملکت ہوتا ہے جس کو وہ سنبھالتی ہے اور جس کی و ہ تنہاانچارج ہوتی ہے۔ یہاں اس کی کارکردگی سے اس کی تاریخ بنتی ہے جو آخر وقت تک اس کا سا تھ دیتی ہے ہر اگلا دن یہاں اس کے عزت وا حترام میں  اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ ’’ماں‘‘ بنتی ہے۔ پھر وہ نانی اور دادی بنتی ہے۔ حتیٰ کہ خود اپنے شوہر کی نظر میں  اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ عورت جوانی کی عمر میں  بیوی ہوتی ہے اور بڑھاپے کی عمر میں  وہ ماں کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔

عورت کی یہ حیثیت بالکل فطری ہے۔ چنانچہ خود مغربی دنیا میں  جو افراد ازدواجی دائرہ میں  رہ کر زندگی گزار تے ہیں، ان کے یہا ں بھی فطرت کے زور پر عورت یہی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ اس سلسلےمیں  ایک سبق آموز مثال امریکا کے صد ر رونا لڈ ریگن کی ہے۔ چنانچہ ایک امریکی رپورٹ میں  بتا یا گیا ہے کہ مسڑریگن اپنی بیوی سے بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ وہ ان کو’’ماں‘‘ کہتے ہیں جب کہ وہ عوام سے دور ہوتے ہیں۔ یہ بات ان کے قریبی رفیقوں نے بتائی:

"Mr. Reagan is known to be deeply attached to his wife, whom he calls ‘mommy’ away from the public, according to their close associates."

(Hindustan Times, October 18, 1987, p. 1)

اس طرح عمر بڑھنے کے ساتھ گھر کے اندر عورت کا وقار بڑھتا چلاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ گھر کی مالکہ کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ خاندان کسی عورت کی وہ دنیا ہے جو اوّل سے آخر تک اس کا ساتھ دیتی ہے۔ جب کہ مغربی تہذیب کا حال یہ ہے کہ وہ زندگی کے چند سالوں میں  عورت کی ساتھی ہے، وہ اس کی عمر کے طویل تر حصہ میں  عورت کی ساتھی نہیں۔ مغربی زندگی میں  عورت اپنی جوانی کے چند سال کے بقدر قیمت پاتی ہے اور خاندانی زندگی میں  اپنی پوری عمر تک۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion