معیشت
مذہب،معاشیات کی جوتنظیم کرتاہے، اس میں ذرائع پیداوارپرانفرادی ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کاساراڈھانچہ بنیادی طورپر،انفرادی ملکیت کے اوپرقائم ہے، یہ نظام عرصہ تک باقی رہا({ FR 44 })۔ مگرصنعتی انقلاب کے بعدیورپ میں انفرادی ملکیت کے اصول پر زبردست تنقیدیں شروع ہوئیں،یہاں تک کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی عام فضااس کے خلاف ہوگئی، انیسویں صدی کے نصف آخراوربیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان سوبرس تک ایسی فضارہی گویا انفرادی ملکیت ایک مجرمانہ قانون تھا،جودورِ وحشت میں انسانوں کے درمیان رائج ہوگیا،اوراب جدید علمی ترقی نے اجتماعی ملکیت کااصول دریافت کیاہے، جو معاشیات کی بہترتنظیم کے لیے اعلیٰ ترین اصول ہے۔
اس کے بعدتاریخ میں پہلی باراجتماعی ملکیت کے نظام کاتجربہ شروع ہوا،زمین کے ایک بڑے حصّے میں ا س کونافذکیاگیا،اس کے حق میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے،بڑی بڑی امیدیں باندھی گئیں،مگرطویل تجربہ سے ثابت ہوگیاکہ اجتماعی ملکیت کانظام نہ صرف یہ کہ غیرفطری ہونے کی وجہ سے اپنے قیام کے لیے تشددپیداکرتاہے،نہ صرف یہ کہ وہ انسان کی ہمہ جہتی ترقی میں مانع ہے، نہ صرف یہ کہ سرمایہ داری سے بھی زیادہ ایک مرکوز اور جابرانہ نظام کاموجب ہے بلکہ خودوہ زرعی اورصنعتی پیداواربھی اس میں ملکیتی نظام کے مقابلے میں کم حاصل ہوتی ہے،جس کے لیے آزادی اورہمہ جہتی ترقی کی قربانی دی گئی تھی۔
یہاںمیں روس کی مثال دوں گا،روس کی تمام زمینیں اس وقت سرکاری ملکیت میں تبدیل کی جاچکی ہیں ، اورپورے ملک میں “اجتماعی انتظام‘‘ کے تحت کاشت کی جاتی ہے، ساری زمینیں سرکاری اور پنچایتی فارم کی صورت میں ہیں ، نہ کہ نجی ملکیت کی صورت میں۔ البتہ1935ء کے فیصلہ کے مطابق ہرکسان کویہ حق دیاگیاہے کہ وہ اپنے رہائشی مکان سے متصل اپنے ذاتی استعمال کے لیے ایک تہائی یا نصف ایکڑاوربعض مخصوص صورتوں میں دوایکڑتک زمین پرقبضہ رکھ سکتاہے،اسی طرح اسے یہ بھی حق ہے کہ اپنے مکان میں محدود تعداد میں گائے،بکری،بھیڑاورمرغی وغیرہ پالے،1961ءکے اعداد و شمار کے مطابق روس میں کل زیرکاشت رقبہ204بلین ہیکٹیر(Hectares)تھا،جس میں نجی رقبہ کی مجموعی مقدارچھ ملین ہیکٹیرتھی،یعنی کل کاشت زمین کاصرف تین فیصد حصّہ،مگر1961ء میں آلوکی پیداوار کا جو تناسب تھا،وہ حسب ذیل ہے:
زیرکاشت زمین پیداوار
اجتماعی رقبہ 43,5,2,000 3,08,00,000ٹن
نجی رقبہ 45,26,000 5,35,00,000ٹن
اس طرح نجی رقبہ پرپیداہونے والے آلوکی مقدارگیارہ ٹن فی ہیکٹیرتھی،جب کہ سرکاری فارموں میں یہ مقدارصرف سات ٹن فی ہیکٹیرتھی،حالانکہ سرکاری فارموں کو جدید زرعی مشینیں، موزوں زمین اورمعدنی کھاد وغیرہ کی وہ سہولتیں حاصل تھیں جن سے نجی رقبے قدرتی طورپرمحروم تھے۔ اسی قسم کاتناسب دوسرے اجناس کی پیداوارمیں بھی پایاجاتاہے۔
مویشیوں کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب ہے،چارہ کی کمی اورناقص دیکھ بھال کی وجہ سے سرکاری فارموں میں کثرت سے جانورمرجاتے ہیں۔ چنانچہ صرف ایک ریاست میں 1962 کے گیارہ مہینوںمیں مجموعی طورپرتقریباًایک لاکھ 70ہزارمویشی مرگئے۔اس کے مقابلے میں ہرقسم کی دشواریوں کے باوجودنجی طورپرپالے ہوئے مویشیوں کی تعدادبڑھ رہی ہے،اور بااعتبار تناسب وہ سرکاری جانوروں سے زیادہ مفیدثابت ہورہے ہیں ، اورزیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔چنانچہ سرکاری فارم جوکل تعدادکا75 فی صدی مرغیوں اور مویشیوں کے مالک ہیں ، انھوں نے نجی ذرائع کے مقابلے میں صرف دس(10) فیصد زیادہ گوشت فراہم کیا اور انڈے میں تونجی پيداوارنے انھیں بہت پیچھے چھوڑیا۔ 1961ء کے اعداد و شمار ملاحظہ ہوں:
اجتماعی رقبہ نجی رقبہ
گوشت ٹن48,00,000 ٹن39,00,000
دودھ ٹن3,4,00,000 ٹن2,85,00,000
انڈا ٹن6,300 ٹن23,000
اون ٹن2,87,000 ٹن79,000
حتیٰ کہ یہ محدودنجی ذرائع خودحکومتی مرکزوں کوغذائی اشیاسپلائی کرتے ہیں۔چنانچہ 1962ء میں صرف ایک ریاست میں حکومت نے اپنے دفاترکا26فیصد آلواور 34 فیصد انڈانجی فارموں سے حاصل کیاہے،اوراسی طرح دوسری چیزیں۔
Bulletin, Germany, November 1963
اس اجتماعی ملکیت کاآخری انجام یہ ہے کہ روس جو زارکے زمانے میں ،جب کہ وہاں نجی ملکیت کانظام رائج تھا،اناج کے معاملے میں دنیاکے چندبڑے برآمدی ملکوںمیں سے تھا،اس نے 1963ء میں کناڈا،آسٹریلیااورامریکا سے پندرہ ملین ٹن گیہوں خریداہے، اور یہ صورت حال مسلسل جاری ہے،چنانچہ 56۔1941ء میں اس نے امریکا سے بارہ لاکھ پچاس ہزارٹن غلہ خریداہے،اسی طرح بعدکے سالوں میں بھی یہی حال دوسرے اشتراکی ملک چین کابھی ہے۔
Bulletin, Oct. 1963
اس تجربے سے معلوم ہواکہ مذہب کاقانون جس ذہن سے نکلاہے،وہ انسانی فطرت کوزیادہ جاننے والاہے، اوراس کے مسائل کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھتاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جوتمدن کی تعمیرکے لیے ہمیں درکارہے، اس کا واحد اور حقیقی جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔مذہب اعلیٰ انسانی ذہن سازی کی طرف رہنمائی کرتاہے،وہ تمدن کے لیے موزوں ترین اساس فراہم کرتاہے۔ وہ زندگی کے ہر معاملے میں وہ صحیح ترین بنیاددیتاہے، جس کی روشنی میں ہم زندگی کامکمل نقشہ بناسکیں۔ وہ حاکموں اورمحکوموں کے درمیان قانونی مساوات پیداکرنے کی واحدصورت ہے، وہ قانون کے لیے وہ نفسیاتی بنیادفراہم کرتاہے، جس کی عدم موجودگی میں قانون عملاًبیکارہوکررہ جاتا ہے،وہ سوسائٹی کے اندروہ موافق فضاپیداکرتاہے،جوکسی قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے، اس طرح مذہب ہمیں وہ سب کچھ دیتاہے، جس کی ہمیں اپنے تمدن کی تعمیرکے لیے ضرورت ہے، جب کہ لامذہبیت ان میں سے کچھ بھی نہیں دیتی اورنہ حقیقتاً دے سکتی ہے۔