عزت و ذلت
نبی ﷺ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص سامنے سے گزرا۔ اس کا عمدہ لباس اور اس کا شان دار جسم بتا رہا تھا کہ یہ بستی کا صاحب حیثیت آدمی ہے۔ آپ نے حاضرین سے کہا: اس شخص کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے۔ کسی نے جواب دیا ، یارسول اللہ، یہ یہاں کے شریف لوگوں میں سے ہے۔ خدا کی قسم وہ اس قابل ہے کہ اگر کسی گھر میں نکاح کا پیغام دے تو قبول کیا جائے۔ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے۔
آپ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک اور شخص سامنے سے گزرا۔ آپ نے دوبارہ حاضرین سے پوچھا، اس کے بارے میں کیا رائے ہے۔ کسی نے کہا، یا رسول اللہ یہ ایک غریب مسلمان ہے۔ کہیں نکاح کا پیغام دے تو قبول نہ کیا جائے ، کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش سنی نہ جائے۔ بات کرے تو کوئی اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’پہلی قسم کے آدمیوں سے اگر ساری زمین بھر جائے تو خدا کی نظر میں ایسا شخص ان سے بہتر ہو گا‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6447)۔
