امن کےفائدے
دنیاکےتما م اچھےکام پُرامن کوشش کےذریعہ ہوئےہیں۔تشدّدکی طاقت سے کبھی کوئی اچھا کام نہیں ہوا۔ کوئی پُل، کوئی سڑک کبھی بھی تشدّد کی طاقت سے نہیں بنے۔ سائنس کی دریافتیں اور ٹکنالوجی کی ترقیاں کبھی تشدّد کی طاقت سے ظہور میں نہیں آئيں۔ تعلیم گاہیں اور تحقیق کے ادارے کبھی تشدّد کی طاقت سےنہیں بنے۔لوہےکامشین میں ڈھلنا یا سٹی پلاننگ جیسے کام امن کے ذریعہ انجام پائے، نہ کہ تشدّد کے ذریعہ۔ سماجی فلاح سے لےکر انفر اسٹرکچر تک ہر کام ہمیشہ پُرامن تدبیروں کے ذریعہ تکمیل پذیر ہوئےہیں۔
تشدّد ایک تخریبی عمل ہے۔اورایک تخریبی عمل کےذریعہ کبھی کوئی تعمیری واقعہ ظاہر نہیں ہوسکتا۔یہ فطرت کاقانون ہے۔اورفطرت کےقانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔
