حرف آخر
جدید طبقہ مسلسل یہ مطالبہ کررہا ہے کہ اسلام کے قانون معاشرت میں تبدیلی لائی جائے۔ دیندار طبقہ جب اس مطالبہ کو نہیں مانتا تو یہ کہا جانے لگتا ہے کہ اسلام زمانے کی ترقی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ کیوں کہ اس کے قانون میں تبدیلی قبول کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس سلسلےمیں یہاں ہم ایک مثال نقل کریں گے۔ مسٹر موہن گروسوامی کا ایک مضمون ہند ستان ٹائمس (6 اپر یل1987 ) میں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:
‘‘Islam, instead of being a religion which is open to popular opinion, seems to have become a religion of laws impervious to change. The recent controversy on the payment of alimony and the rigid attitude displayed by most Islamic leaders in this country is yet another instance of this imperviousness to change.’’
(The Hindustan Times, New Delhi, April 6, 1987)
اسلام ، بجائے اس کے کہ وہ ایک ایسا مذہب ہو جو عوامی رائے کے لیے کھلا ہوا ہو، وہ بظاہر ایسا مذہب بن گیا ہے جس کے قوانین تبدیلی کو قبول نہ کریں۔ ( مطلقہ کو) گزارہ دینے کے مسئلہ پر حالیہ نزاع اور اس ملک کے اکثر اسلامی رہنماؤں کا جامد نقطۂ نظر اختیار کرنا ایک اور مثال ہے کہ ا سلا م میں تبدیلی کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ( صفحہ 9)
جو لو گ اس قسم کی باتیں لکھتے ہیں، ان کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوںکہ وہ محض سطحی طور پر ایسا لکھ دیا کرتے ہیں اس سلسلےمیں بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون سی دلیل ہے جو اس بات کا تقا ضا کرتی ہے کہ اسلام کے قانون معاشرت میں تبد یلی لائی جائے۔
یہ دلیل صرف دو ہوسکتی ہے۔ ثابت شدہ علم یا تجر بہ۔ زیر نظر کتاب میں جو تفصیلی مواد جمع کیا گیا ہے اس سے دو اور دو چار کی طرح یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ مذ کورہ دعوے کے حق میں نہ حقیقی معنوں میں کوئی علم ہے اور نہ کوئی قابلِ لحاظ انسانی تجربہ۔ اس کے برعکس، علم کے تمام متعلقہ شعبے اسلام کے قانون کی نظر یاتی صحت ثابت کررہے ہیں۔ اسی طرح موجود ہ زمانے میں جو معاشرتی تجربہ کیا گیا ہے اس کے نتائج غیر اختلافی طور پر بتا رہے ہیں کہ اسلام کے قانونی تصورات عین درست ہیں اور ان کے بالمقابل جو نظر یات موجودہ زمانے میں اختیار کیے گئے وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے سخت ہلاکت خیز ہیں۔ ایسی حالت میں تبدیلی کا مطالبہ دوسروں سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسلام سے۔
