غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب

شوال5ھ

اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو نضیر کی جلاوطنی کے بعد یہودی سردارحی بن اخطب مکہ گیا اور وہاں کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا اور کنانہ بن ربیع نے جا کر بنی غطفان کو آپ کے مقابلہ کے لیے تیار کیا اور ان کو لالچ دلایا کہ خیبر کے نخلستان میں جس قدر کھجوریں آئیں گی ہر سال اس کا نصاف حصہ ہم تم کو دیا کریں گے۔ یہ سن کر یہ لوگ تیار ہوگئے۔ قریش پہلے ہی سے تیار تھے۔

 اس طرح ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی روانگی کی خبر ملی تو صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویزکو پسند فرمایا۔ اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم کی۔ صحابۂ کرام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی خندق کھودنے میں مصروف تھے۔

 خندق کا یہ طریقہ عربوں کے لیے نیا تھا۔ تاہم جنگ سے بچنے کی یہ ایک بہترین تدبیر تھی۔ اس وجہ سے آپ نے اس کو پسند کیا۔ مسلمان خندق کھود کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ قریش دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا لشکر لے کر مدینہ آ پہنچے۔ جب ان لوگوں نے مدینہ کے باہر خندق دیکھی تو حیرت زدہ ہوگئے۔ اور خندق کے باہر پڑاؤ ڈال لیا۔ تین ہفتے اسی طرح گزر گئے مگر دست بدست لڑائی اور مقابلہ کی نوبت نہیں آئی۔ صرف طرفین کے مابین اکا دُکا تیر اندازی کے واقعات پیش آئے۔

غزوۂ خندق اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ سخت غزوہ ہے۔ قرآن میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں کہ— جب تمہارے دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے، اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے اور آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے۔ اور تم اللہ پرطرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلا مارے گئے(33:10-11)۔

 ہجرت کے بعد یہود کا قبیلہ بنی نضیر اپنی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے نکالا گیا۔ اس کے بعد وہ مختلف بڑے بڑے قبائل میں گئے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف خوب اکسایا۔ چنانچہ وہ قریش، بنوفزارہ، غطفان اور ہزیل وغیرہ قبائل کی متحدہ طاقت کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوگئے۔ تقریباً12 ہزار کے لشکر نے مدینہ کوگھیر لیا۔مدینہ کے اندر آباد یہودی قبیلہ بنو قریظہ بھی ان کے ساتھ ہوگیا۔ مدینہ میں مسلمانوں کی جمعیت کل3 ہزار تھی جن میں قابل لحاظ تعداد ان منافقین کی تھی جن پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔

 اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی جنگی تدبیر کی جس سے عرب اب تک واقف نہ تھے۔یہ مدینہ کے کھلے علاقہ کی طرف ایک خندق تھی جو تین ہفتہ کے محاصرہ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان روک بنی رہی۔اسلام دشمنوں کی فوج ابھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکی تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی جس میں دشمن فوج کے خیمے اکھڑ گئے۔ ریت اور سنگریزے اڑ کر ان کے منہ پر لگتے تھے۔ ان کے چولہے بجھ گئے اور دیگچے زمین پر جا پڑے۔ گھوڑے رسی تڑا کر بھاگنے لگے۔ ان چیزوں نے دشمن کے لشکر کو اتنا پریشان کر دیا کہ وہ اپنا ارادہ ترک کرکے واپس چلے گئے۔اس وقت حالات اتنے شدید تھے کہ ایک بدری صحابی معتب ابن قشیر کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا:

كَانَ ‌مُحَمَّدٌ ‌يَعِدُنا أَنْ نأكلَ كنوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وأحدُنا لَا يَأْمَنُ أَنْ يذهَب إلَى الْغَائِطِ (سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 121)۔ یعنی،محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے کھائیں گے اور آج ہمارا ایک شخص اپنے آپ کو اس کے لیے بھی محفوظ نہیں پاتا کہ وہ بیت الخلاء جائے۔

ایک طرف یہ شدید حالات تھے، دوسری طرف عین انہی دنوں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمان جب خندق کھود رہے تھے تو ایک بھاری چٹان ان کے سامنے آگئی جس پر ان کی کدال کام نہیں کررہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔آپ چٹان کے پاس آئے۔کدال اپنے ہاتھ میں لی اور بسم اللہ کرکے اس پر مارا۔ پہلے ہی ضرب میں چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے کہا:اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں۔ پھر دوبارہ کدال ماری تو دوسراتہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے کہااللہ اکبر، مجھے فارس کی کنجیاں دے دی گئیں۔ خدا کی قسم، میں مدائن کے قصرابیض کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپنے تیسری بار کدال ماری توچٹان کا بقیہ حصہ بھی ٹوٹ گیا۔ آپ نے فرمایا، اللہ اکبر، مجھ کو یمن کی کنجیاں دے دی گئیں۔ خدا کی قسم، میں اپنے اس مقام صنعاء کے دروازے پر دیکھ رہاہوں(سیرۃ ابن کثیر، جلد3، صفحہ194)۔

محاصرہ کے دوران غطفان کے ایک رئیس نعیم بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اوراسلام قبول کر لیا۔ اور کہا کہ ابھی میرے اسلام لانے کی خبر نہیں پھیلی ہے۔ اگر اجازت ہو تو کوئی تدبیر کروں۔ آپ نے اجازت دی اور فرمایا:الْحَرْبُ ‌خَدْعَةٌ(لڑائی نام ہے حیلہ اور تدبیر کا)۔مسند احمد، حدیث نمبر1804

چنانچہ نعیم نے ایسی تدبیر کی کہ قریش اور بنو قریظہ میں پھوٹ پڑ گئی۔اور بنو نضیر قریش کی امداد سے دست کش ہوگئے۔ اور اسی کے ساتھ تیز ہوا چلی اور اس طرح اللہ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ آخر کار مشرکین مایوس ہوکر واپس چلے گئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion