شاہان عالم کے نام خطوط
صلح حدیبیہ کا واقعہ6ھ میں پیش آیا۔ اللہ نے اس صلح کو ایک کھلی فتح فَتْحًا مُبِينًا سے تعبیر کیا۔ نیز اس کے ذریعہ ایک قریبی فتح(فَتْحًا قَرِيبًا)48:18 کی خوش خبری بھی سنائی۔
صلح حدیبیہ ایک بہت ہی دور رس منصوبہ بندی کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آنے والا واقعہ تھا۔ یہ دراصل اضطراب میں اطمینان کی تلاش تھی۔ یہ ایک سکینۂ ربانی تھا جو اللہ کی طرف سے بطور خاص نازل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ دعوتِ اسلام اور اس کی نشر واشاعت کا جو دروازہ جنگ و جہاد کی قوتوں سے نہیں کھل پا رہا ہے اسے امن اور صلح کے ذریعہ کھولا جائے۔ اور جو کام اضطراب اور بے سکونی کے ماحول میں ٹھیک طرح سے انجام نہیں پا رہا ہے اسے وہ پُرسکون فضا میسر آ جائے کہ وہ مزید نتیجہ خیز ہو سکے۔
صلح حدیبیہ اسی معنیٰ میں ایک بڑی فتح تھی کہ اس کے ذریعہ دعوت اسلامی بلا کسی رکاوٹ کے دور تک پھیل گئی۔ منکرین کی مخالفت اور عناد جو اس دعوت کے عام کرنے کے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی، اس صلح کے ذریعہ وہ آپ ہی آپ اور اپنی مرضی سے فرد ہوگئی۔ چنانچہ رسول اللہ نے حدیبیہ سے واپس آ کر ماہ ذی الحجہ6ھ میں بادشاہوں کے نام دعوت اسلامی کے خطوط ارسال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ نے صحابہ کو جمع کرکے خطبہ دیا:
اے لوگو، میں تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ تم تمام عالم کو یہ پیغام پہنچاؤ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ عیسیٰؑ کے حواریوں کی طرح اختلاف نہ کرنا کہ اگر قریب بھیجنے کو کہا تو راضی ہوگئے اور اگر کہیں دور جانے کو کہا تو اپنی جگہ چپک رہے اور وہاں سے نہ ٹلے۔
صحابہ کرام نے اس پر لبیک کہا اور تعمیل حکم پر کمربستہ ہوگئے۔ اور رسول اللہ کی جناب میں یہ مشورہ پیش کیا کہ اے اللہ کے رسول، ملوک اور سلاطین جس خط پر مہر نہ ہو اسے قابل التفات نہیں سمجھتے۔ آپ نے یہ بات پسند فرمائی اور اس کے پیش نظر ایک مہر کندہ کرائی جس کی صنعت حبشہ کی تھی۔ اس پر محمد رسول اللہ کندہ تھا۔ خط کے مضمون کے اختتام پر نام کی جگہ یہ مہر لگانے کے بعد ہی اسے مکتوب الیہ کے پاس بھیجا جاتا تھا۔
اس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر غیر قوموں کے درمیان بھی ایسا طریقہ یا رسم پائی جائے جسے ایک اصول اور ضابطہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہو نیز وہ عقل و شریعت سے متصادم نہ ہو تو اس کی رعایت کرنا اور اس کا اختیار کر لینا ہی عین مطلوب فطرت ہے۔ نیزالْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4169)کا یہی تقاضا ہے۔ یعنی،حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ اس کو جہاں پائے، تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
