فرضی اندیشے
21جولائی 1996 کو بنگلور (سبرامنیم پورہ) میں ایک عبرت انگیز واقعہ ہوا۔ ایک لڑکا جی ہریش بابو ویویکانند ہائر پرائمری اسکول میں فورتھ اسٹینڈرڈ (چوتھے درجہ) کا طالب علم تھا۔ اس نے اپنے گھر کے ایک کمرہ میں اپنے کو بند کر کے اپنے اوپر مٹی کا تیل (کروسین) انڈیل لیا اور اپنے کپڑوں کو آگ لگالی ۔ اس طرح وہ جل کر مر گیا۔ اخباری رپورٹر کے الفاظ میں، اس کا سبب، امتحان میں ناکام ہو جانے کا اندیشہ تھا :
Fear of failure in examinations.
لڑکے کے باپ جی گوپی ناتھ نے بتایا کہ ہریش حسب معمول اپنے اسکول سے واپس آیا۔ اس نے اپنی ماں لیلا سے کہا کہ اس کی ٹیچر اس سے ملنا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق لیلا اسکول چلی گئی۔ اس کے بعد ہریش نے کچن میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا اور اپنے آپ کو آگ لگائی۔ آواز سن کر پڑوسی دوڑ پڑے۔ مگر جب کچن کا دروازہ توڑ کر لڑکے کو نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ جل کر مر چکا ہے۔
لڑکے کی ماں لیلا جب اسکول پہنچی تو وہاں اس کو نتیجہ کا پرچہ (marks card) دیا گیا۔ وہ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی ۔ کیوں کہ اس کے لڑکے نے 600 میں 379نمبر حاصل کیے تھے مگر جب وہ گھر پہنچی تو اس کی خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔ کیوں کہ اس نے دیکھا کہ اس کا لڑکا خود کشی کر کے اپنی جان دے چکا ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا، 22 جولائی 1996)
ہریش بابو اگر چند گھنٹے اور انتظار کر لیتا تو اس کو معلوم ہو جاتا کہ اس کا اندیشہ بالکل بےبنیاد تھا۔ امتحان میں وہ اچھے نمبر لا کر پاس ہو چکا تھا، مگر وہ فرضی اندیشے میں مبتلا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے خوف کے تحت اپنی جان دے دی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات کا غلط اندازہ کر کے آدمی اندیشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل بتاتا ہے کہ وہ اندیشے سرے سے پیش آنے والے ہی نہ تھے ۔
جو چیز آج نہ مل رہی ہو اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ بجائے اس کے کہ اس کو نہ ملنے والی چیز سمجھ کر آپ مایوسی اور بے ہمتی کا شکار ہو جائیں۔
